درآمدی بل میں مسلسل اضافے نے حکومت کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں 98 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر امپورٹ بل کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ادائیگیوں کا توازن بگڑنے کا خطرہ ہے۔
اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے ساتھ سرپلس رہا۔۔ ایک ماہ پہلے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک ارب بیس کروڑ ڈالر تھا۔۔
موجودہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے لیے مجموعی اضافی رقم ایک ارب 88 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اگرچہ اپریل میں دیکھا گیا اضافہ مارچ میں ریکارڈ کیے گئے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اور پچھلے سال اپریل کے مقابلے میں 31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے کافی کم رہا، لیکن کرنٹ اکاؤنٹ مثبت زون میں رہا۔
مالی سال 25-2024 میں جولائی تا اپریل، کرنٹ اکاؤنٹ نے ایک ارب 88 کروڑ ڈالر کا خالص اضافہ ظاہر کیا تھا، جو پچھلے سال اسی مدت کے دوران ایک ارب 33 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے خسارے کی نسبت اہم تبدیلی تھی۔
مالی ماہرین نے اپریل میں کم سرپلس کے لیے مارچ میں 3 ارب 38 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے ریکارڈ تجارتی خسارے کو اہم وجہ قرار دیا، برآمدی صنعت بڑی حد تک درآمد شدہ خام مال پر انحصار کرتی ہے اور حکومت کی جانب سے درآمدی پابندیوں میں نرمی کرنے کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے تجارتی عدم توازن بڑھ گیا ہے۔