حماس سے معاہدے کی ناکامی کے بعد اسرائیل نے دوحہ سے سینئر مذاکرات کاروں کو واپس بلا لیا

0

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے قطر میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں ناکامی کے بعد سینئر اسرائیلی وفد کو دوحہ سے واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام حماس کی جانب سے مجوزہ یرغمالی معاہدے کو مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیا، جسے ایک بڑی سفارتی پسپائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مذاکراتی عمل کی تفصیل

اسرائیلی وفد — جس کی قیادت خفیہ ادارے موساد کے حکام کر رہے تھے — قطری ثالثی کے تحت حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ایک تجویز کردہ معاہدے پر بات چیت کر رہا تھا۔ تاہم، اسرائیلی حکومت کی جانب سے منگل کی شب جاری بیان میں کہا گیا”حماس کی جانب سے معقول فریم ورک کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کے باعث وزیر اعظم نے وفد کو وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔”

معاہدے میں رکاوٹیں کہاں تھیں؟

  • حماس نے مطالبہ کیا تھا:
    • غزہ میں فوجی کارروائیاں مکمل بند کی جائیں
    • اعلیٰ سطح کے فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں
  • اسرائیل نے اصرار کیا کہ:
    • یرغمالیوں کی مرحلہ وار رہائی ہو
    • ہر مرحلے کے ساتھ سیکیورٹی ضمانتیں دی جائیں

ذرائع کے مطابق، بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی تھی، تاہم حماس کے حالیہ موقف نے مذاکرات کو مکمل تعطل کا شکار کر دیا۔

عالمی ردِعمل

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے برسلز میں ایک بریفنگ میں کہا: "انسانی جانوں کا سوال اہم ہے۔ ہم دونوں فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔”قطر اور مصر کی ثالثی کوششوں کو اس تعطل سے شدید دھچکا لگا ہے۔یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر یرغمالیوں کو بازیاب کرایا جائے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.