اسرائیلی وزیر نے سفارتخانے پر حملے کا الزام متنازعہ وزیر یائر گولن پر لگا دیا
اسرائیل کے وزیر ثقافتی ورثہ امیچائے الیاہو نے واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر دو سفارتی اہلکاروں کے قتل کی ذمہ داری براہ راست بائیں بازو کے رہنما یائر گولن پر ڈال کر سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے۔
الیاہو نے سوشل میڈیا پر ایک سخت بیان میں کہا"یائر گولن کے زہریلے بیانات دنیا بھر میں نازیوں اور اسرائیل دشمنوں کے لیے الہام بن چکے ہیں۔ آج ہم واشنگٹن میں اپنے ہی لوگوں کے خون کی قیمت چکا رہے ہیں۔ یائر، ان سفارتی اہلکاروں کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے۔”
الیاہو کا متنازعہ بیان واشنگٹن میں کیپٹل جیوش میوزیم کے قریب فائرنگ کے واقعے کے ایک دن بعد آیا جس میں دو اسرائیلی اہلکار ہلاک ہو گئے۔حملہ آور کی شناخت الیاس روڈریگز کے طور پر ہوئی، جو گرفتاری کے وقت "آزاد فلسطین” کے نعرے لگا رہا تھا۔
الیاہو نے دعویٰ کیا کہ گولن کے حالیہ ریمارکس نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں بیرون ملک اسرائیلیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گولن نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ "اسرائیل شوق سے بچوں کو مارتا ہے”۔ بعد میں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا نشانہ سیاستدان تھے، فوج نہیں، لیکن تبصرے کو اسرائیلی سیاست میں بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔