وزیراعظم کی طرف سے پاک بھارت جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے جائزہ کیلیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔۔
پہلے اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے اہم ہدایات جاری کر دیں۔۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں 15 رکنی کمیٹی نے اپنے کام کا آغاز کر دیا۔۔ کمیٹی نے فوری طور پر متاثرین کے پاس پہنچنے اور شواہد کا مشاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔
عید کے بعد کمیٹی کا دوسرا اجلاس طلب کر لیا گیا
کمیٹی بھارت کی جانب سے پنجاب اور کشمیر میں ہونے والے جانی مالی نقصان کا تخمینہ لگائے گی اور بھارتی فوج کی جانب سے عالمی قوانین اور بالخصوص جنیوا کنونشن کی ہونے والی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کرے گی۔۔
بھارتی فوج کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنائے جانے کی بھی رپورٹ تیار کی جائے گی۔۔ ڈیمز، پاور اسٹیشنز، سکولوں، عبادت گاہوں، پبلک پراپرٹی سمیت دیگر انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان اور اس کی معاشی ویلیو کی رپورٹ بھی مرتب کی جائے گی۔۔
زخمی اور شہید ہونے والے اور شہریوں کے املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے سول آبادی کے افراد کا ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا۔۔ تمام شواہد کی فرانزک رپورٹ مرتب کی جائے گی
کمیٹی 30 دنوں میں اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔۔ ڈی جی ایف آئی اے، ریلیف کمشنر پنجاب بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔۔ ہوم سیکرٹری پنجاب ،ڈی آئی جی پنجاب اور وزارت خارجہ کا نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔۔حساس اداروں کے نمائندے بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔۔