منیٰ میں رمی جمرات: لاکھوں عازمین نے حج 2025 کی اختتامی رسم ادا کی
منیٰ (سعودی عرب): حج 2025 کی اہم ترین اور اختتامی رسم "رمی جمرات” آج لاکھوں عازمینِ حج کی شرکت کے ساتھ ادا کی گئی، جس کے دوران 1.6 ملین سے زائد مسلمانوں نے منیٰ میں واقع جمرات کے مقام پر شیطان کو علامتی طور پر سنگسار کیا۔
حضرت ابراہیمؑ کی سنت کی یاد تازہ
طلوعِ آفتاب سے قبل ہی لاکھوں حجاج جمرات کے احاطے میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے تین پتھریلے ستونوں پر سات سات کنکریاں ماریں۔
یہ رسم حضرت ابراہیمؑ کے شیطان کے وسوسوں کو رد کرنے کی یادگار ہے، جو اسلامی ایمان، صبر اور خدا کی اطاعت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
عرفات کے اجتماع کے بعد اہم رسم
رمی جمرات کا یہ عمل گزشتہ روز عرفات کے میدان میں ہونے والے جذباتی اجتماع کے بعد انجام دیا گیا، جہاں حجاج نے حضرت محمد ﷺ کے آخری خطبے کی یاد میں دعائیں مانگیں اور قرآن کی تلاوت کی۔
گرمی کی شدت کے باوجود ہزاروں عازمین نے جبلِ رحمت پر چڑھ کر عبادات کیں، جبکہ سعودی حکام نے 10 بجے صبح سے 4 بجے شام تک حجاج کو گھروں یا خیموں میں رہنے کی ہدایت جاری کی تاکہ ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ ممکن ہو۔
زائرین کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات
سعودی حکومت نے حج کے دوران زائرین کی سلامتی اور صحت کے لیے وسیع اقدامات کیے، جن میں:
- ❄️ کولنگ مشینیں اور پانی کے اسپرے
- 🧪 ہیلتھ چیک اپ اسٹیشنز
- 🚫 غیر رجسٹرڈ افراد کے داخلے پر سخت پابندی
- 📶 ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور راستہ ہدایت کے نظام
یہ اقدامات دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کو محفوظ اور منظم رکھنے کی کوششوں کا حصہ تھے۔
ایمان، اتحاد اور روحانیت کا مظہر
حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں کم از کم ایک بار فرض ہے۔
یہ ایک ایسا سفر ہے جو دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے مسلمانوں کو عقیدت، نظم و ضبط اور روحانیت میں یکجا کرتا ہے۔
عید الاضحیٰ کی تقریبات کا آغاز
رمی جمرات کے ساتھ ہی عید الاضحی کی تقریبات کا بھی باقاعدہ آغاز ہو گیا، جس میں حاجی قربانی کے بعد طواف زیارت اور سعی جیسے اعمال بھی ادا کریں گے۔