اسرائیلی حملوں میں 14 ایرانی نیوکلیئر سائنسدان شہید: خلیجی انٹیلی جنس ذرائع
خلیجی انٹیلی جنس کے معتبر ذرائع کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی ایک سلسلہ وار خفیہ کارروائیوں میں ایران کے کم از کم 14 جوہری سائنسدان شہید ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں ہدفی کار بم دھماکے شامل تھے، جو ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کے لیے انجام دیے گئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اتوار کو دو خلیجی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ حملے اسرائیلی آپریشن "رائزنگ لائن” کا حصہ تھے، جس کا مقصد ایران کے جوہری اور فوجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا تھا۔ یہ پیش رفت ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں ایک خطرناک موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہید ہونے والے سائنسدان ایران کے اہم جوہری مراکز — نتنز، فردو اور تہران — سے منسلک تھے۔ ان کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی، لیکن اندازہ ہے کہ یہ افراد ایران کے جوہری تحقیقاتی اداروں کے کلیدی ارکان تھے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو "ایران کی خودمختاری پر کھلی جارحیت” اور "ریاستی دہشت گردی” قرار دیا ہے۔ تہران نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دے۔
ایران نے اپنی جوابی کارروائی — آپریشن "ٹرو پرومیس 3” — کے تحت اسرائیلی اہداف پر بیلسٹک میزائل حملے بھی کیے ہیں۔ ایرانی وزارت دفاع کے مطابق یہ جوابی حملے "ایران کی دفاعی خودمختاری کا حصہ” ہیں اور مستقبل میں مزید سخت اقدامات کا اشارہ دیا گیا ہے۔