امریکا نے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دے دیے

0

واشنگٹن – امریکا نے حالیہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت "جائز دفاعی اقدام” قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کو مطلع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عارضی جنگ بندی کے باوجود برقرار ہے۔

امریکہ کی مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، ڈروتھی شیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک تحریری خط میں کہا ہے کہ”ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے اور ممکنہ استعمال کے خطرے کو روکنا بین الاقوامی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ امریکی کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کا حصہ ہے۔”

خط میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی کارروائی ایران کی افزودگی کی صلاحیت کو محدود کرنے کے مقصد سے کی گئی اور یہ اقوام عالم کے مشترکہ دفاعی تحفظات کا حصہ ہے۔

اس خط سے ایک روز قبل وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امر کا عندیہ دیا کہ اگر مستقبل میں ایرانی یورینیم افزودگی کی رفتار دوبارہ "تشویشناک سطح” تک پہنچی، تو وہ ایران پر دوبارہ فضائی حملے سے گریز نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا”اگر ہمیں کوئی خطرناک انٹیلی جنس رپورٹ ملی، تو میں حملہ کرنے پر ضرور غور کروں گا۔”

صدر ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) یا دیگر قابل اعتماد اداروں کو ان جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنا چاہیے جن پر امریکا نے حالیہ حملے کیے۔ اس کا مقصد عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ ایران ہتھیاروں کے حصول کی راہ پر گامزن نہیں ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.