نئے مالی سال کا آغاز: بجٹ 2025-26 نافذ، اربوں روپے کے نئے ٹیکس لاگو
اسلام آباد — پاکستان میں نئے مالی سال 2025-26 کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، اور اس کے ساتھ ہی وفاقی بجٹ میں شامل نئے ٹیکسز اور مالیاتی اقدامات پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے فنانس بل 2025-26 پر دستخط کے بعد یہ قانون نافذ ہو چکا ہے، جس کے تحت عوام، سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے پر براہ راست 700 ارب روپے سے زائد کا نیا مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
بجٹ 2025-26: اہم نکات
- 389 ارب روپے کے ٹیکس انفورسمنٹ اقدامات
- 312 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لاگو
- میوچل فنڈز پر ٹیکس 25% سے بڑھ کر 29%
- سولر پینلز پر 10% سیلز ٹیکس نافذ
- رجسٹرڈ شناختی کارڈ نمبر سے ٹرانزیکشنز کی ایف بی آر نگرانی
- ٹی بلز اور انویسٹمنٹ بانڈز پر نیا ٹیکس
- ای کامرس کاروبار کے لیے ایف بی آر رجسٹریشن لازمی
حکومت کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں مزید اضافہ کرنے کی آئینی اجازت بھی مل گئی ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔
یکم جولائی سے ہی سرکاری و نجی ملازمین کی تنخواہوں پر نئی ٹیکس سلیبز نافذ العمل ہو چکی ہیں، جس سے تنخواہ دار طبقہ کی آمدن پر براہ راست اثر پڑے گا۔