سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔۔ چار صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے تحریر کیا
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کی جاتی ہے ۔۔ہر مقدمے میں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا۔۔
فیصلے کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کے مقدمے میں میرٹس پر فیصلے دیئے۔۔ مبینہ سازش سے متعلق شواہد ٹرائل کے دوران ہی جانچے جائیں گے۔۔ بانی پی ٹی آئی کیخلاف شواہد کی سکروٹنی ضروری ہے۔۔ شواہد کا جائزہ ٹرائل کورٹ ہی لے سکتی ہے۔۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کے مقدمے میں شواہد پر حتمی نوعیت کی آبرویشنز دیں۔۔ پراسیکیوشن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے مقدمات میں درج الزمات کی سازش تیار کی۔۔ پراسیکیوشن نے تین گواہان اور الیکٹرانک شواہد کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی۔۔پراسیکیوشن نے اعجاز چوہدری اور حافظ فرحت اور دیگر مقدمات کو بانی سے علحیدہ ہونے کا موقف اپنایا۔۔
فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کے میرٹس پر آبزرویشن ٹرائل کو متاثر کر سکتی ہیں۔۔ درخواست گزار پر سازش کے الزامات ثابت کرنے کا بہترین فورم ٹرائل کورٹ ہے۔۔ اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے۔۔ تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔۔
