ریاض – اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے سعودی عرب کے مشہور صحرائی علاقے ’’عروق بنی معارض‘‘ کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق، یہ علاقہ عالمی سطح پر پہلا قدرتی محفوظ علاقہ ہے جسے یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل کیا گیا۔ ’’عروق بنی معارض‘‘ سعودی عرب کے مشہور صحرا ربع الخالی کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔
یہ وسیع صحرائی علاقہ 12 ہزار 750 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا مسلسل ریتلا خطہ شمار کیا جاتا ہے۔
یہی نہیں، عروق بنی معارض استوائی ایشیا کی واحد متصل ریتلی پٹی ہونے کی وجہ سے بھی غیر معمولی قدرتی اہمیت رکھتا ہے۔
اس محفوظ پناہ گاہ میں 900 سے زائد پودوں اور جانوروں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں متعدد نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار جاندار شامل ہیں۔
ان میں:
-
عربی چیتا
-
پہاڑی اور ریتلے علاقے کے ہرن
-
120 اقسام کے مقامی جنگلی پودے
یہ تمام حیاتی تنوع اس علاقے کو عالمی قدرتی ورثے میں منفرد مقام فراہم کرتا ہے۔
یونیسکو کی عالمی فہرست میں ’’عروق بنی معارض‘‘ کی شمولیت سعودی عرب کے لیے ایک ماحولیاتی اور ثقافتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جو مملکت کی قدرتی ورثے کے تحفظ کی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
