شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائلوں کے مزید تجربات — جون کے بعد پہلا سلسلہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
سیئول — شمالی کوریا نے ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں کے سلسلہ وار تجربات کیے ہیں، جو جون کے بعد پہلی مرتبہ انجام دیے گئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان تجربات نے خطے میں سیکیورٹی تناؤ اور سفارتی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔
جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (JCS) کے حوالے سے بتایا کہ شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان (ایسٹ سی) کی سمت میں متعدد مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے۔ یہ میزائل ہوانگ ہائی صوبے کے علاقے جنگوا سے فائر کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے میزائل لانچ سرگرمیوں کی نگرانی مزید تیز کر دی ہے، جبکہ امریکا اور جاپان کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان اس صورتحال پر قریبی رابطے میں ہیں اور کسی بھی ممکنہ جوابی یا دفاعی کارروائی کے لیے تیار رہنے کی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تجربات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں سفارتی روابط تعطل کا شکار ہیں اور شمالی کوریا کی قیادت مغربی ممالک کی جانب سے پابندیوں اور دباؤ کو مسترد کر رہی ہے۔