روسی حکام کا الزام: مغربی میڈیا روس-امریکہ سربراہی اجلاس کو سبوتاژ کرنے کے لیے جعلی خبریں پھیلا رہا ہے

0

ماسکو — روسی حکام نے مغربی ذرائع ابلاغ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بوڈاپیسٹ میں مجوزہ روس-امریکہ سربراہی اجلاس کو نقصان پہنچانے کے لیے جعلی اور گمراہ کن خبریں پھیلا رہے ہیں۔

روس کے صدر کے خصوصی نمائندے برائے سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون اور روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (RDIF) کے سی ای او کیرل دمتریف نے اپنے بیان میں کہا کہ مغربی میڈیا جان بوجھ کر اجلاس کے حوالے سے غلط تاثر دے رہا ہے۔

انہوں نے X (سابق ٹوئٹر) پر لکھا "میڈیا آنے والے سربراہی اجلاس کے بارے میں ’قریب مستقبل‘ سے متعلق بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے تاکہ اس اہم سفارتی ملاقات کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم اجلاس کی تیاریاں پوری رفتار سے جاری ہیں۔”

دمتریف نے وضاحت کی کہ بوڈاپیسٹ میں ہونے والے پوٹن-ٹرمپ اجلاس کی منسوخی کی خبریں بے بنیاد ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے بدستور جاری ہیں۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب 16 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے فون پر بات چیت کے دوران جلد ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔ روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف کے مطابق، "یہ ملاقات ایک اہم سفارتی لمحہ ثابت ہو سکتی ہے، اور ماسکو و واشنگٹن نے اس کی تیاری شروع کر دی ہے۔”

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے بھی سربراہی اجلاس کے انتظامات کے لیے ایک خصوصی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

تاہم، سی این این نے 20 اکتوبر کو خبر دی کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان مجوزہ ملاقات غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے — جس سے بظاہر بڈاپیسٹ میں ممکنہ روس-امریکہ مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سربراہی اجلاس کے لیے "سنجیدہ تیاریوں کی ضرورت ہے،” اس لیے فی الحال کسی مخصوص تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.