نئی دہلی — امریکا اور برطانیہ نے رواں سال کے دوران قانونی حیثیت نہ رکھنے والے تقریباً 2,890 بھارتی شہریوں کو ملک سے نکال دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق، ان افراد کی شناخت اور شہریت کی تصدیق بھارت نے خود کی تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، امریکا نے جنوری 2025 سے اب تک 2,790 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا، جبکہ برطانیہ نے 100 سے زائد غیر قانونی بھارتی باشندوں کو اپنے ملک سے واپس بھیجا۔
رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا “یہ تمام افراد ان ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ ہم نے ان کی قومیت کی تصدیق کی، اور وہ وطن واپس آ چکے ہیں۔”
رپورٹ کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کے خلاف سخت امیگریشن پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکا سے بھارتی شہریوں کو وقتاً فوقتاً ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امریکا اور برطانیہ میں مقیم بھارتی تارکینِ وطن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں غیر قانونی طور پر وہاں مقیم ہیں۔
بھارت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد بھارتی شہری بیرونِ ملک مقیم ہیں، جن میں لاکھوں ایسے ہیں جو عارضی ویزوں پر رہ رہے ہیں یا ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقیم ہیں۔
