ٹوکیو — جاپان میں ایٹمی حملوں سے زندہ بچ جانے والے شہریوں کی نوبیل امن انعام یافتہ تنظیم ’نیہون ہیدانکیو‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے نئے تجربات کے اعلان کو ’’صریحاً ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔
اردو نیوز کے مطابق، یہ تنظیم اُن شہریوں پر مشتمل ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم حملوں میں زندہ بچ گئے تھے۔ ان افراد کو جاپان میں “ہیباکوشا” (Hibakusha) کہا جاتا ہے، جو دہائیوں سے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔
تنظیم کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا “دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے بجائے امریکا کا یہ قدم عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ہم ٹرمپ انتظامیہ کے اس اعلان کو انسانیت کے خلاف جرم سمجھتے ہیں۔”
1945 میں امریکا نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر دو ایٹمی بم گرائے تھے، جن کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد جاپانی شہری ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے۔ ان حملوں نے نہ صرف دوسری جنگِ عظیم کا خاتمہ کیا بلکہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے اخلاقی پہلو پر ایک گہری بحث بھی شروع کر دی۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی تجربات کی بحالی عالمی سطح پر نیا ہتھیاروں کا دوڑ (arms race) شروع کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا میں امن و استحکام کو خطرات لاحق ہوں گے۔
