خرطوم — سوڈان کی نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے شمالی شہر الفشر میں شہریوں کے قتل عام میں ملوث اپنے متعدد جنگجوؤں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں اور تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو محض "تشہیری حربہ” (PR stunt) قرار دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے الفشر میں ہونے والے اندھا دھند حملوں میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت اور نسلی بنیادوں پر تشدد کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جنہوں نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا۔
RSF نے اپنے ایک کمانڈر ابو لولو کی گرفتاری کی ویڈیو جاری کی ہے، جو مبینہ طور پر ان حملوں میں پیش پیش تھا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ابو لولو کو جیل میں منتقل کیا گیا ہے، لیکن سوڈانی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملیشیا کے نظامی تشدد سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
بوسٹن میں مقیم سوڈانی محقق محمد سلیمان نے کہا "ابو لولو کی گرفتاری صرف عالمی دباؤ کم کرنے اور RSF کی اجتماعی ذمہ داری سے انحراف کے لیے ایک دکھاوا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا پر سوڈانی صارفین نے ایک ہیش ٹیگ #آپ_سب_ابو_لولو_ہیں (#YouAreAllAboLolo) شروع کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ "پوری ملیشیا ابو لولو جیسے ہی کام کر رہی ہے”۔
دوسری جانب RSF کے سربراہ محمد حمدان دگالو (حمیدتی) اور ان کے نائب عبدالرحیم دگالو کی موجودگی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ سینٹر فار انفارمیشن ریسیلینس کے تفتیش کاروں کے مطابق، حملوں کے وقت عبدالرحیم دگالو الفشر میں موجود تھے۔
سوڈانی خاتون کارکن ہالا الکریب، جو خواتین پر تشدد کے خلاف تنظیم Horn of Africa Women Initiative سے وابستہ ہیں، نے RSF کے اس اقدام کو "تکلیف دہ مذاق” قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا "ایک شخص کو گرفتار کرنے سے نہ تو انصاف ہوتا ہے اور نہ ہی ہزاروں متاثرین کا درد کم۔ روزانہ سوڈان میں معصوم شہری مارے جا رہے ہیں، خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے، لیکن عالمی برادری اور RSF دونوں کی بے حسی برقرار ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق، RSF کی جانب سے جنگجوؤں کی گرفتاری کا اعلان بین الاقوامی تنقید کو کم کرنے کی کوشش ہے، جب کہ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سوڈان میں خانہ جنگی بدستور شدت اختیار کر رہی ہے۔
