پوپ لیو چہار دہم کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات — غزہ امداد اور دو ریاستی حل پر زور

0

ویٹیکن سٹی  — کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم نے جمعرات کو فلسطینی صدر محمود عباس (ابو مازن) سے پہلی بار ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی امداد کی فوری فراہمی اور خطے کے تنازع کے پائیدار حل کے لیے دو ریاستی فارمولے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

ویٹیکن کے مطابق یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی اور اسے "خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہونے والی ملاقات” قرار دیا گیا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی ثالثی سے غزہ میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔

پوپ لیو اور صدر عباس کے درمیان یہ پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔ دونوں رہنماؤں نے اس سے قبل جولائی 2025 میں ٹیلی فون پر غزہ کی صورتِ حال اور مغربی کنارے میں بڑھتے تشدد پر گفتگو کی تھی۔

ویٹیکن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ“خوشگوار بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ میں شہریوں کو امداد کی فراہمی اور دو ریاستی حل کے ذریعے تنازع کے خاتمے کی فوری ضرورت ہے۔”

ستمبر 2025 میں پوپ لیو نے اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات میں دو ریاستی حل کو “جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ” قرار دیا تھا۔ ویٹیکن مسلسل غزہ میں مستقل جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے یہ دورہ “القدس اور ریاستِ فلسطین کے درمیان جامع معاہدے” پر دستخط کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کیا۔
صدر عباس بدھ کی سہ پہر روم پہنچے، جہاں انہوں نے سینٹ میری میجر باسیلیکا میں مرحوم پوپ فرانسس کی قبر پر حاضری دی اور تعزیت کی۔

عباس مرحوم پوپ فرانسس سے کئی بار ملاقات کر چکے ہیں اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں اور اسرائیلی جوابی کارروائیوں کے بعد دونوں کے درمیان مسلسل رابطہ رہا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.