ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان اور لیبیا طرز کی "ہمیشہ کے لیے جنگ” سے بچیں: وینزویلا صدر نکولس مادورو

0

کراکس/واشنگٹن  — وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان اور لیبیا کی طرز کی "ہمیشہ کے لیے جنگ” سے بچیں، جبکہ کیریبین میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں تیزی کے بعد خطے میں کشیدگی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔

مادورو کا امن کی اپیل

کراکس میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے مادورو نے کہا کہ امریکہ خطے کو ایک مزید بلاجواز جنگ کی طرف نہ دھکیلے۔
انہوں نے زور دے کر کہا "اب مزید ہمیشہ کے لیے جنگیں نہیں، مزید افغانستان نہیں، مزید لیبیا نہیں… امن زندہ باد”۔

مادورو کا بیان اس وقت سامنے آیا جب دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی کیریبین میں آمد نے امریکی عزائم پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی دباؤ مہم میں شدت

مادورو کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہیگستھ نے ٹرمپ کی دباؤ مہم کو تیز کرتے ہوئے کہا کہ سدرن اسپیئر آپریشن ’’ہمارے پڑوس کی حفاظت کرے گا‘‘۔
واضح رہے کہ اس آپریشن کا ابتدائی اعلان 10 ماہ پہلے کیا جا چکا تھا، جس میں سمندری نگرانی کے لیے جدید روبوٹک اور خودکار نظام استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

اگرچہ امریکہ اسے ’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ قرار دیتا ہے، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا نہ تو کوکین کا بڑا پیداواری مرکز ہے اور نہ ہی فینٹینیل کی اسمگلنگ کا حصہ، جس کے باعث اس اقدام کو سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اس مشن کے ذریعے وہ ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں جو وہ اپنی پہلی مدت میں حاصل نہ کر سکے: مادورو کا تختہ الٹنا۔

ممکنہ امریکی کارروائی کے آپشن

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اعلیٰ فوجی حکام نے صدر ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف متعدد آپشنز پیش کیے ہیں، جن میں زمینی حملے کا امکان بھی شامل ہے، تاہم اس پر کوئی حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔

وینزویلا کے وزیرِ خارجہ یوان گل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"شمالی امریکی سلطنت حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے، ہم تیار ہیں”۔

"گوریلا طرز” ردعمل کی تیاریاں؟

رائٹرز کے مطابق وینزویلا حکومت نے کسی ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں ’’گوریلا طرز‘‘ مزاحمت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ ان منصوبوں میں:

  • ملک بھر میں 280 سے زائد مقامات پر چھوٹے جنگجو یونٹس کی تعیناتی

  • تخریب کاری اور شہری مزاحمت کے منصوبے

  • کراکس کی سڑکوں پر حکومت نواز گروہوں کی جانب سے مزاحمتی کارروائیاں شامل ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.