برازیل میں مقامی افراد نے COP30 اجلاس کا داخلی دروازہ بند کر دیا، عالمی مندوبین گھنٹوں پھنسے رہے
بیلیم، برازیل — برازیل میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس COP30 کے باہر جمعہ کی صبح اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی جب درجنوں مقامی افراد اور ماحولیاتی کارکنوں نے مرکزی داخلی دروازہ کئی گھنٹوں تک بلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مندوبین، صحافی اور مبصرین پنڈال کے باہر پھنس گئے۔
مظاہرین، جن میں خاص طور پر Munduruku قبیلے کے افراد شامل تھے، نے COP30 کے مقام پر لگے خیمہ بستی کے مرکزی دروازے کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر کانفرنس میں داخلے کو روک دیا۔ اس دوران مسلح اور حفاظتی لباس پہنے پولیس اہلکار داخلی راستے پر مستعد کھڑے رہے۔
کانفرنس کے صدر آندرے کوریا ڈو لاگو خود مظاہرین سے ملنے پہنچے اور انہیں ایک جانب ہو کر بات چیت کی یقین دہانی کروائی۔ تاہم اسی دوران سیکڑوں مندوبین اور میڈیا نمائندوں کو طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اجلاس کا شیڈول شدید متاثر ہوا۔
برازیلی نیوز پورٹل G1 کے مطابق مظاہرین کا بنیادی مطالبہ ہے کہ برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا ان سے براہِ راست ملاقات کریں۔
مقامی قبائل الزام لگاتے ہیں کہ:
-
بڑی کمپنیاں ان کے آبائی علاقوں میں ماحولیاتی تباہی کا باعث بن رہی ہیں
-
حکومتی آبی گزرگاہوں کا نیا منصوبہ ان کی سرزمین کے لیے خطرہ ہے
-
مجوزہ ڈریجنگ سے مقدس چٹانوں کی تباہی ہو سکتی ہے
-
نجی بندرگاہوں کی توسیع خطے میں سماجی و ماحولیاتی بگاڑ کو بڑھائے گی
مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف ان کے ثقافتی ورثے بلکہ ایمیزون کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے بھی تباہ کن ہوں گے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ منگل کی رات بھی درجنوں مقامی افراد نے کانفرنس کے محفوظ ٹینٹ سٹی پر دھاوا بول دیا تھا، جہاں انہوں نے دروازے توڑے اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ دھکم پیل کی۔
COP30 میں ہزاروں مقامی کارکن شرکت کر رہے ہیں، جو جنگلات کی کٹائی، زمینوں کے قبضے اور صنعتی سرگرمیوں کے ذریعے ان کے آبائی وطن کی تباہی کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھا رہے ہیں۔