سعودی ولی عہد محمد بن سلمان منگل کو امریکہ کا سرکاری دورےکریں گے
ریاض/واشنگٹن – سعودی عرب کے de facto حکمران اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (MBS) سات سال بعد پہلی بار امریکہ کے سرکاری دورے پر منگل کو وائٹ ہاؤس پہنچ رہے ہیں، جہاں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوگی۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے دیرینہ تیل اور سکیورٹی تعاون کو نئی وسعت دینا اور تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ممکنہ سویلین جوہری پروگرام میں شراکت داری کو مضبوط کرنا ہے۔
2018 میں استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی عالمی تنقید کے باعث ولی عہد کا یہ پہلا امریکی دورہ ہے۔ امریکی انٹیلی جنس پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر چکی ہے کہ MBS نے خاشقجی کی گرفتاری یا قتل کی منظوری دی، تاہم ولی عہد نے الزام کی تردید کرتے ہوئے بطور حکمران اخلاقی ذمہ داری قبول کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک اس دورے میں 600 بلین ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی، ایران کے اثرورسوخ، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی اور سعودی عرب کے سویلین نیوکلیئر پروگرام پر تعاون جیسے معاملات پر پیش رفت چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خاشقجی قتل کے بعد "ایک صفحہ پلٹ دیا گیا ہے” اور دونوں ممالک اب مستقبل کی عملی شراکت داری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
دفاعی معاہدے پر پیش رفت
سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے تیل کی فراہمی اور سکیورٹی گارنٹی کا غیر رسمی تعاون موجود ہے، تاہم 2019 میں ایران کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں کے بعد ریاض کو پہلے سے زیادہ مضبوط دفاعی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ ستمبر میں قطر پر اسرائیلی حملے نے بھی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے قطر کے ساتھ ہونے والے دفاعی انتظام کی طرز پر سعودی عرب کے لیے بھی ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جا سکتا ہے۔ تاہم واشنگٹن اس بات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے مشروط کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اس پیش رفت کو فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کسی ٹھوس پیش رفت سے جوڑتا ہے۔
ٹیکنالوجی، جوہری توانائی اور AI پر تعاون
سعودی عرب وژن 2030 کے تحت اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے امریکہ سے جوہری توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں شراکت داری چاہتا ہے۔ ہائی اینڈ اے آئی چپس کے حصول کی منظوری سعودی مملکت کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ریاض خود کو عالمی مصنوعی ذہانت کا مرکزی مرکز بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ممکنہ امریکی ایگزیکٹو آرڈر سعودی دفاعی ضروریات کے لیے صلاح مشورے، میزائل دفاعی نظام کی فراہمی، بحری افواج کی تعیناتی اور ہتھیاروں کے تبادلے جیسے اقدامات پر مشتمل ہو سکتا ہے، تاہم براہِ راست فوجی مداخلت اس کا حصہ نہیں ہوگی۔
خلیج میں موجود سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ "ٹرمپ تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں اور سعودی دفاعی معاہدہ چاہتے ہیں، مگر موجودہ حالات میں دونوں کو اپنی خواہش سے کم ملنے کا امکان ہے، یہی سفارتی حقیقت ہے۔”
اس دورے سے دونوں ممالک کے طویل المدتی تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ ایران، اسرائیل اور فلسطین سے جڑی کشیدگی کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔