چین کی سفری پابندیاں: جاپانی سیاحت اور خوردہ کمپنیوں کے حصص کو شدید دھچکا

0

ٹوکیو/بیجنگ – جاپان اور چین کے درمیان سفارتی تناؤ ڈرامائی موڑ اختیار کرگیا ہے، اور اس کشیدگی کی آگ نے براہِ راست جاپانی معیشت کو جھلسانا شروع کر دیا ہے۔ چین کی جانب سے اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کی سخت وارننگ نے پیر کی صبح ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ میں کھلبلی مچا دی، جہاں سیاحت اور خوردہ کمپنیوں کے حصص تیزی سے نیچے آ گئے۔

یہ بحران اُس وقت بھڑکا جب جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائیچی نے تائیوان پر چین کی ممکنہ کارروائی کو جاپان کی "بقا کے لیے خطرہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں جاپانی سیلف ڈیفنس فورسز عسکری ردعمل دے سکتی ہیں۔ ان بیانات نے بیجنگ کو مشتعل کر دیا، جس نے سخت لہجے میں اپنی ناراضی ظاہر کی، چینی عوام کو جاپان کے سیاحتی بائیکاٹ کا مشورہ دیا، طلباء کو جاپانی یونیورسٹیوں سے دور رہنے کی تنبیہ کی، اور مزید دباؤ ڈالنے کے لیے متنازعہ سینکاکو جزائر کے قریب کوسٹ گارڈ بھیج دیا۔

چینی وارننگ کا فوری معاشی اثر—حصص لڑھک گئے

چین کی ہدایت کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں گہرا مندی دیکھا گیا:

  • شیسیڈو کے حصص 9% تک گر گئے،

  • تاکاشیمایا کے شیئرز 5% سے زیادہ نیچے آئے،

  • فاسٹ ریٹیلنگ (Uniqlo) کے حصص میں 4% سے زائد کمی ریکارڈ ہوئی۔

چین جاپان کے لیے سیاحت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور چینی مسافر کاسمیٹکس، فیشن اور الیکٹرانکس پر بے تحاشا خرچ کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ سفری بائیکاٹ کا مطلب ہے جاپانی سیاحت، خوردہ اور سروس سیکٹر کے لیے بڑا معاشی دھچکا۔

بڑھتے ہوئے بحران کے پیشِ نظر جاپانی وزارتِ خارجہ نے ’فائر فائٹنگ موڈ‘ اختیار کر لیا ہے۔
جاپانی وزارتِ خارجہ کے ایشیا و اوشیانا بیورو کے ڈائریکٹر جنرل مساکی کنائی منگل کو بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب لیو جنسونگ سے ملاقات کریں گے۔

کنائی کوشش کریں گے کہ چین کو یقین دلایا جائے کہ تاکائیچی کے بیانات جاپانی سکیورٹی پالیسی میں کسی نئی سمت کی نمائندگی نہیں کرتے، اور بیجنگ سے کہا جائے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

وزیراعظم تاکائیچی نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر تائیوان پر حملے میں جنگی جہاز یا طاقت کا استعمال شامل ہے تو یہ جاپان کے وجود کو خطرے میں ڈالنے والی صورتِ حال ہو سکتی ہے۔”

چین نے ان بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
بیجنگ کا مؤقف ہے کہ تائیوان اس کی سرزمین کا حصہ ہے، اور اس نے طاقت کے استعمال کو کبھی خارج نہیں کیا۔

دوسری جانب، جاپانی آئین کے مطابق ٹوکیو صرف اسی وقت عسکری کارروائی کر سکتا ہے جب ملک کو "وجودی خطرہ” لاحق ہو۔
جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی تائیوان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

کشیدگی میں مزید اضافہ اُس وقت ہوا جب چینی کوسٹ گارڈ نے سینکاکو (چینی نام: ڈیاؤیو) جزائر کے قریب "حقوق نافذ کرنے والا گشت” کیا۔
یہ جزائر جاپان کے زیرِ انتظام ہیں لیکن چین برسوں سے ان پر دعویٰ کرتا رہا ہے۔

دونوں ملک ایشیا کی سب سے بڑی معیشتیں اور ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، لیکن

  • تاریخی بداعتمادی،

  • علاقائی تنازعات،

  • تائیوان کی صورتحال،

  • اور بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات

اکثر ان تعلقات کو شدید آزمائش میں ڈالتے ہیں۔

یہ سفارتی بحران آیا دنوں میں مزید بھڑک سکتا ہے—اور ماہرین کے مطابق اگر چین اپنی وارننگ کو سخت کرتا ہے تو جاپان کے سیاحتی اور خوردہ شعبے کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.