پوپ لیو کی امریکہ میں تارکین وطن کے ساتھ ’انتہائی اہانت آمیز‘ سلوک پر شدید مذمت
روم — پوپ لیو نے امریکہ میں تارکین وطن کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو ’’انتہائی بے عزتی‘‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف امریکی بشپس کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان کی حمایت میں اختیار کیا جس میں بڑے پیمانے پر ملک بدری اور امیگریشن چھاپوں سے پیدا ہونے والے خوف و ہراس پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
پوپ لیو، جو کیتھولک چرچ کی تاریخ کے پہلے امریکی پوپ ہیں، نے کاسٹیل گینڈولفو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تارکین وطن انسان ہیں اور ان کے ساتھ احترام اور وقار کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کو اپنی امیگریشن پالیسی کا حق ہے لیکن برسوں سے امریکہ میں بسنے والے افراد کے ساتھ ناروا سلوک کسی طور قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ 10، 15 یا 20 سال سے امریکہ میں آباد ہیں، ان کے ساتھ جو برتاؤ ہو رہا ہے وہ انتہائی بے عزتی ہے، اور بعض کیسز میں تشدد بھی سامنے آیا ہے۔‘‘ پوپ نے مزید کہا کہ بشپس نے اپنے بیان میں بڑی وضاحت سے اصولی موقف اختیار کیا ہے۔
لیو نے اپنی تقاریر میں حالیہ مہینوں کے دوران ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید تیز کر دی ہے۔ ستمبر میں انہوں نے امریکہ کے امیگریشن نظام کو ’’غیر انسانی‘‘ قرار دیا تھا جبکہ اکتوبر میں انہوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا یہ پالیسیاں کیتھولک چرچ کی تعلیمات سے مطابقت رکھتی ہیں۔
پوپ لیو نے یہ بھی کہا کہ ’’کوئی شخص اگر اسقاط حمل کے خلاف ہو مگر تارکین وطن کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی حمایت کرے تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ واقعی زندگی کا محافظ ہے یا نہیں۔‘‘
دوسری جانب پوپ لیو نے برازیل میں منعقدہ Cop30 سربراہی اجلاس کے شرکاء کے نام ایک سخت لہجہ رکھنے والی ویڈیو اپیل بھی جاری کی جس میں انہوں نے عالمی رہنماؤں کی موسمیاتی بحران پر ناکافی کارروائی پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو سیلاب، خشک سالی، طوفان اور شدید گرمی کا سبب قرار دیتے ہوئے اسے انسانی زندگی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے پیرس معاہدے کو ’’زمین اور انسانیت کی بقا کے لیے مضبوط ترین عالمی ہتھیار‘‘ قرار دیا اور کہا کہ معاہدہ ناکام نہیں ہو رہا، بلکہ دنیا کے رہنماؤں میں اس پر عملدرآمد کی سیاسی خواہش کی کمی ہے۔