برطانیہ کا امریکا پر دفاعی انحصار ختم کرنے کا اعلان، بڑے پیمانے پر جنگ کی تیاری شروع

0

لندن: برطانیہ نے امریکا پر طویل عرصے سے جاری دفاعی انحصار ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک نے بڑے پیمانے پر ممکنہ جنگی صورتحال کے لیے عملی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق یورپ کو درپیش سیکیورٹی خطرات میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے اور اب محض اتحادیوں پر انحصار کافی نہیں رہا۔

برطانیہ کی مسلح افواج کے وزیر کرنل ایسکاٹ کارنز نے ایک اہم بیان میں کہا کہ “جنگ کے سائے یورپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور برطانیہ کو ہر صورت تیار ہونا ہوگا۔” ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران برطانیہ کے خلاف دشمن ریاستوں کی انٹیلیجنس سرگرمیوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔

برطانوی وزیر افواج نے اعتراف کیا کہ گزشتہ پچاس سے ساٹھ برسوں کے دوران برطانیہ نے عملی طور پر اپنا دفاع امریکا کو “آؤٹ سورس” کر رکھا تھا، تاہم بدلتی عالمی صورتحال میں یہ پالیسی قابلِ عمل نہیں رہی۔ ان کے مطابق، “اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ اپنے دفاع کی ذمہ داری خود سنبھالے، امریکا پر انحصار ختم کرے اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو ازسرِنو مضبوط بنائے۔”

انہوں نے نیٹو کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کریں اور جنگی تیاریوں کو محض کاغذی منصوبوں تک محدود نہ رکھیں۔ کرنل ایسکاٹ کارنز کے مطابق مستقبل کی جنگیں روایتی کے ساتھ ساتھ سائبر، انٹیلیجنس اور ہائبرڈ وارفیئر پر مشتمل ہوں گی، جس کے لیے جدید حکمت عملی ناگزیر ہے۔

اسی تناظر میں برطانوی حکومت نے ایک نئی ڈیفنس کاؤنٹر انٹیلیجنس یونٹ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ یونٹ مخالف ریاستوں کی جاسوسی، سائبر حملوں اور خفیہ کارروائیوں کا سراغ لگانے اور انہیں ناکام بنانے کے لیے کام کرے گی، تاکہ قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے یورپی اتحادیوں کو سخت خبردار کیا ہے کہ انہیں روس کے ساتھ ممکنہ بڑے اور شدید تصادم کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر ایسا تصادم ہوا تو اس کی شدت کا موازنہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے کیا جا سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق برطانیہ کا یہ اعلان یورپ میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی توازن اور امریکا کی عالمی ترجیحات میں تبدیلی کا واضح عکاس ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں یورپی ممالک کو اجتماعی دفاع کے ساتھ ساتھ انفرادی عسکری خودمختاری پر بھی زیادہ توجہ دینا ہوگی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.