آئی سی سی کا اسرائیلی دباؤ مسترد، غزہ جنگ سے متعلق تحقیقات جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار

امریکا کی جانب سے آئی سی سی کے دو ججز پر پابندیاں، عدالت کا سخت ردِعمل

دی ہیگ — بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے غزہ جنگ سے متعلق تحقیقات روکنے کی اسرائیلی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے ایک اہم قانونی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت کے اپیل ججوں نے پیر کے روز اسرائیل کی جانب سے دائر کردہ ان قانونی چیلنجز میں سے ایک کو خارج کر دیا، جن کا مقصد غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کو محدود یا ختم کرنا تھا۔

اپیل ججوں نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت استغاثہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے اسرائیل پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد پیش آنے والے واقعات کو بھی اپنی تحقیقات میں شامل کر سکے۔ عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں غزہ جنگ سے متعلق تحقیقات بدستور جاری رہیں گی۔

اس فیصلے کے اثرات نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف جاری گرفتاری وارنٹس بھی برقرار رہیں گے۔ یہ وارنٹس گزشتہ سال مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت جاری کیے گئے تھے۔

اسرائیل نے ہمیشہ دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا مقصد 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد حماس کا خاتمہ کرنا تھا۔

آئی سی سی نے ابتدا میں حماس کے رہنما ابراہیم المصری کے خلاف بھی مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے، تاہم بعد ازاں ان کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد یہ وارنٹ واپس لے لیا گیا۔

واضح رہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران شدید تباہی دیکھنے میں آئی۔ اگرچہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کا ایک معاہدہ نافذ ہوا، تاہم اس سے قبل ہونے والی بمباری اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کا بڑا حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے اور انسانی حالات نہایت سنگین ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، جن کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے معتبر قرار دیتے ہیں، اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک تقریباً 67 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

آئی سی سی کا یہ تازہ حکم اسرائیل کی جانب سے دائر کیے گئے متعدد قانونی چیلنجز میں سے صرف ایک سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ دائرہ اختیار سے متعلق دیگر اعتراضات پر فیصلے کے لیے فی الحال کوئی حتمی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی، تاہم غزہ جنگ سے متعلق تحقیقات بدستور جاری رہیں گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے