بیجنگ – چین نے امریکا کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے فیصلے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے ون چائنا اصول کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوگا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ چین تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی سخت مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا یہ اقدام چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست ضرب ہے۔
ترجمان نے مطالبہ کیا کہ امریکا فوری طور پر تائیوان کو مسلح کرنے کا یہ خطرناک عمل بند کرے اور اپنے رہنماؤں کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے، جن کے تحت امریکا ون چائنا پالیسی کی پاسداری کا پابند ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تائیوان کو تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جسے تائیوان کے لیے اب تک کے سب سے بڑے دفاعی پیکجز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تائیوان کی وزارت خارجہ کے مطابق اس اسلحہ پیکج میں راکٹ سسٹمز، توپ خانہ، اینٹی ٹینک میزائل، ڈرونز اور دیگر فوجی آلات شامل ہیں، جن کا مقصد تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے چین اور امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ آبنائے تائیوان میں فوجی تناؤ بڑھنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
