واشنگٹن — United States نے چین کی ایک بڑی آئل ریفائنری پر ایران سے کروڑوں ڈالرز کا تیل خریدنے کے الزام میں پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے عالمی توانائی اور سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق Hengli Petrochemical ایران کے تیل کی اہم خریدار رہی ہے اور اس تجارت کے ذریعے مبینہ طور پر ایرانی فوج کو مالی فوائد حاصل ہوئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کے خفیہ تیل نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں امریکا نے تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث تھے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ نیٹ ورک پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کر رہا تھا۔
دوسری جانب China نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا عالمی تجارت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور چینی کمپنیوں کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور گزشتہ برس Iran کی 80 فیصد سے زائد تیل برآمدات کا خریدار رہا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
