بھارت: انتہا پسند ہندو تشدد میں اضافہ، کرسمس تقریبات نشانہ بن گئیں
نئی دہلی – بھارت میں بی جے پی کی قیادت میں قائم نریندر مودی حکومت کے دوران مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسیحی برادری کے خلاف انتہا پسند ہندو گروہوں کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے ملک میں مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رواں برس کرسمس کے موقع پر بھی متعدد بھارتی ریاستوں میں مسیحی تقریبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں انتہا پسند عناصر نے گرجا گھروں، اسکولوں اور عوامی مقامات پر ہونے والی کرسمس سرگرمیوں میں خلل ڈالا، سجاوٹ تباہ کی اور شرکا کو دھمکیاں دیں۔
راجستھان کے شہر جودھپور میں ایک اسکول پر حملے کے دوران کرسمس بینرز اور سجاوٹ توڑ دی گئی جبکہ حملہ آوروں نے ہندو انتہا پسند نعرے لگائے۔
اسی طرح کیرالہ کے ضلع پلاکاڈ میں وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے ایک سرکاری اسکول میں جاری کرسمس تقریب زبردستی رکوا دی اور اساتذہ کو نتائج کی دھمکیاں دیں۔
ہریانہ اور اوڑیسہ میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جہاں ہندو قوم پرست گروہوں نے چرچ سروسز میں خلل ڈالا اور مسیحیوں کو مبینہ تبدیلی مذہب کے الزامات کے تحت ہراساں کیا۔
دریں اثنا، نئی دہلی سے سامنے آنے والی ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سانتا کلاز کی ٹوپیاں پہنے مسیحی خواتین اور بچوں کو عوامی مقام سے زبردستی نکالا گیا، انہیں کرسمس منانے سے روکا گیا اور سانتا ٹوپیاں اتارنے پر مجبور کیا گیا۔
اسی طرح چھتیس گڑھ میں کرسمس سے قبل نفرت انگیز پوسٹرز گردش کرتے رہے جن میں مسیحیوں کے خلاف ہڑتال اور احتجاج کی اپیل کی گئی تھی، جس سے خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوئی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ واقعات محض کرسمس تک محدود نہیں بلکہ 2025 کے دوران بھارت بھر میں مسیحیوں کے خلاف ہزاروں حملے رپورٹ ہو چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر سرگرم انتہا پسند گروہ اقلیتوں کو دبانے کی منظم کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بی جے پی حکومت کی خاموشی یا مبینہ سیاسی سرپرستی ان عناصر کو مزید تقویت فراہم کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ صورتحال ملک کے آئینی ڈھانچے، سماجی ہم آہنگی اور عالمی ساکھ کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔