چین کی تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے والی 20 امریکی دفاعی کمپنیوں اور 10 افراد پر پابندیاں
بیجنگ — چین نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر 20 امریکی دفاعی کمپنیوں اور 10 امریکی افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام امریکا کی جانب سے تائیوان کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ پابندیوں کے تحت ان تمام کمپنیوں اور افراد کے چین میں موجود اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ چین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی یا مالی لین دین پر بھی سخت قدغن عائد کر دی گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والے 10 افراد میں ایک امریکی دفاعی کمپنی کا بانی اور 9 اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں، جنہیں تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے فیصلے کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ اقدام چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بیجنگ ایسے اقدامات پر سخت ردِعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق چین کی جانب سے یہ پابندیاں گزشتہ ہفتے امریکا کے اس اعلان کے بعد عائد کی گئیں، جس میں تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔