اسرائیل نے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا، ہارن آف افریقہ میں نئی جیوپولیٹیکل ہلچل
ہرجیسا / تل ابیب — اسرائیل نے صومالیہ کے شمال مغربی خطے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد ہارن آف افریقہ میں جیوپولیٹیکل کشیدگی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
صومالی لینڈ کے صدر عبد الرحمن محمد عبد اللہ المعروف "عرو” نے سوشل میڈیا پر اپنی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ویڈیو کال کی تصاویر جاری کیں، جن میں نیتن یاہو صومالی لینڈ کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے سے آگاہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صومالی لینڈ کی عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوششیں اور علاقائی طاقتوں کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
صومالی لینڈ: محلِ وقوع اور تزویراتی اہمیت
صومالی لینڈ صومالیہ کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے، جس کا دارالحکومت ہرجیسا ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔
اس کی سرحدیں:
-
جنوب اور مغرب میں ایتھوپیا
-
شمال مغرب میں جبوتی
-
شمال میں خلیج عدن
-
مشرق میں صومالیہ کی ریاست پنٹ لینڈ سے ملتی ہیں
یہ خطہ خلیج عدن پر 740 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے اور بحر ہند، بحیرہ احمر اور نہر سوئز کو ملانے والی آبنائے باب المندب کے دہانے پر واقع ہونے کے باعث غیرمعمولی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ بربرہ کی بندرگاہ برسوں سے علاقائی اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
آزادی کا اعلان اور عالمی عدم اعتراف
صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ کے سابق صدر محمد سیاد بری کی معزولی اور مرکزی حکومت کے خاتمے کے تقریباً تین ماہ بعد یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تھا، تاہم تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسے عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
ریفرنڈم اور سیاسی ڈھانچہ
31 مئی 2001 کو ہونے والے ریفرنڈم میں 97.1 فیصد ووٹرز نے صومالیہ سے مکمل علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔
صومالی لینڈ ایک جمہوری سیاسی نظام رکھتا ہے جس میں:
-
صدر
-
حکومت
-
دو ایوانی پارلیمنٹ (ایوانِ نمائندگان اور ایوانِ بالا) شامل ہیں
ہر ایوان میں 82 ارکان ہوتے ہیں۔
یہ علاقہ ماضی میں برطانوی نوآبادی تھا، جو 1960 میں آزاد ہوا اور بعد ازاں اطالوی زیرانتظام صومالیہ کے ساتھ مل کر جمہوریہ صومالیہ بنا۔
آبادی، زبان اور انتظامی تقسیم
2017 کے مطابق آبادی تقریباً 35 لاکھ تھی، جبکہ حالیہ اندازوں کے مطابق یہ 57 سے 60 لاکھ کے درمیان ہے۔
اہم قبائل:
-
اسحاق (وسطی علاقے، سیاسی طور پر غالب)
-
دیر (مغربی علاقے)
-
دارود (مشرقی علاقے)
صومالی لینڈ کے 6 انتظامی علاقے ہیں:
ووکوی جالبید، تجدیر، سول، سناج، اودال اور الساحل۔
قومی کرنسی شلنگ ہے جبکہ صومالی، عربی اور انگریزی زبانیں رائج ہیں۔
ایتھوپیا معاہدہ اور علاقائی تناؤ
2024 کے آغاز میں ایتھوپیا اور صومالی لینڈ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت خشکی میں گھرے ایتھوپیا کو بربرہ بندرگاہ کے گرد 20 کلومیٹر کا علاقہ 50 سال کے لیے کرائے پر دیا گیا۔ اس کے بدلے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کی بات کی گئی، تاہم صومالیہ کی وفاقی حکومت اور عرب لیگ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا۔
اگست 2024 میں ایتھوپیا نے صومالی لینڈ میں سفیر کے درجے کا نمائندہ تعینات کیا، جو دونوں کے تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت سمجھی گئی۔
مصر، امریکہ اور عالمی دلچسپی
ایتھوپیا سے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں مصر نے صومالیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جس کے بعد صومالی لینڈ میں مصری ثقافتی لائبریری بند کر دی گئی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن بربرہ کے قریب ایک فوجی اڈہ قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، خاص طور پر خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور جبوتی میں چینی فوجی اڈے کے تناظر میں۔
صدارتی انتخاب اور نئی قیادت
19 نومبر 2024 کو اپوزیشن رہنما عبد الرحمن محمد عبد اللہ "عرو” نے صدارتی انتخابات میں 63 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور سابق صدر موسیٰ بیحی عبدی کو شکست دی۔