ٹرمپ نے وکیل اور کاروباری شخصیت مورا نامدار کو اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ مقرر کردیا
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وکالت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی اور بیوٹی پارلرز کی چین چلانے والی کاروباری خاتون مورا نامدار کو ایک اہم حکومتی عہدے پر تعینات کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق مورا نامدار کو اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے قونصلر امور مقرر کیا گیا ہے۔ اس عہدے کے تحت وہ ویزوں کی منظوری، سفری قوانین، امریکی پاسپورٹس کے اجرا اور منسوخی سمیت قونصلر معاملات سے متعلق اہم پالیسی اور انتظامی فیصلوں کی ذمہ دار ہوں گی۔
قانونی پس منظر اور سابقہ حکومتی تجربہ
مورا نامدار ایک تجربہ کار وکیل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی ریاست ٹیکساس میں بیوٹی پارلرز کی ایک کامیاب چین بھی چلاتی ہیں۔ وہ اس سے قبل صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھی عارضی بنیادوں پر قونصلر امور کے شعبے میں خدمات انجام دے چکی ہیں، جسے ان کی تقرری کے حق میں ایک اہم دلیل قرار دیا جا رہا ہے۔
مورا نامدار کی نامزدگی پر بعض حلقوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے کاروباری پس منظر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بیوٹی بزنس سے وابستگی رکھنے والی شخصیت کی اس نوعیت کے حساس سرکاری عہدے پر تقرری غیر معمولی ہے۔
تاہم ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مورا نامدار نہ صرف قانونی تعلیم اور تجربہ رکھتی ہیں بلکہ وہ پہلے بھی اسی شعبے میں کام کر چکی ہیں، اس لیے ان کی تقرری کو محض کاروباری پس منظر کی بنیاد پر متنازع بنانا درست نہیں۔
ماہرین کے مطابق اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے قونصلر امور کا عہدہ امریکی خارجہ پالیسی میں انتہائی حساس اور بااثر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی دفتر کے ذریعے دنیا بھر میں امریکی ویزا پالیسی، سفری پابندیاں اور شہریوں سے متعلق قونصلر فیصلے نافذ کیے جاتے ہیں۔