امریکہ وینزویلا کو کالونی نہیں بنا سکتا اور نہ ہمارے وسائل لوٹ سکتا ہے: وینزویلا صدر نکولس مادورو
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ کے کسی خودمختار ملک کو کالونی میں تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے قدرتی وسائل چوری کر سکتا ہے۔
وینزولانا ڈی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے مادورو نے واشنگٹن میں جمع امریکی سیاست دانوں پر زور دیا کہ وہ ان منصوبوں کو ترک کریں جنہیں وائٹ ہاؤس گزشتہ 25 برس سے وینزویلا میں نافذ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی قیادت احترام کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہو تو کاراکاس میں ہمیشہ ایسا صدر موجود رہے گا جو اپنے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے امن، تعاون اور خوشحالی کے راستے تلاش کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا کی قوم امریکہ کی گھڑی ہوئی کہانیوں پر یقین نہیں کرے گی اور کہا کہ امریکی حکومت کے لیے ایسی ’’مجازی حقیقت‘‘ تخلیق کرنا ممکن نہیں جو زمینی حقائق کو بدل دے۔ ان کے مطابق وینزویلا کے عوام پہلے ہی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اپنے ملک کو درست سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مادورو نے الزام عائد کیا کہ امریکی فوج نے بحیرۂ کیریبین میں غیر معمولی پیمانے پر جنگی جہاز اور فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور ستمبر سے اب تک بین الاقوامی پانیوں میں کم از کم 28 مبینہ ’’منشیات کی کشتیوں‘‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران امریکہ نے اس ماہ کے اوائل میں وینزویلا کا تیل لے جانے والے ایک پابندی زدہ آئل ٹینکر کو ضبط کرنے کا اعلان کیا جبکہ پاناما کے پرچم تلے چلنے والے ٹینکر سنچری اور سپر ٹینکر بیلا 1 کو بھی روک لیا گیا۔
صدر مادورو نے ان اقدامات کو وینزویلا کے تیل کی ’’چوری اور ہائی جیکنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ کاراکاس واشنگٹن کے خلاف اقوام متحدہ میں شکایت درج کرانے سمیت قانونی راستہ اختیار کرے گا۔