بیرونی حملے کا دفاع نہیں ہو سکتا، فوجی بجٹ بڑھانا ناگزیر ہے:سوئس آرمی چیف کا انتباہ
زیورخ — سوئٹزرلینڈ کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل تھامس سوسلی نے خبردار کیا ہے کہ ملک اس وقت مکمل پیمانے پر کسی بیرونی حملے کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور روس سے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں فوجی اخراجات میں فوری اضافہ ضروری ہے۔
سوئس اخبار این زیڈ زیڈ کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل سوسلی نے کہا کہ اگرچہ فوج اہم انفراسٹرکچر پر غیر ریاستی عناصر کے حملوں اور سائبر حملوں کے لیے کسی حد تک تیار ہے، تاہم اسے اب بھی سازوسامان اور استعداد میں بڑے خلا کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق ہنگامی صورتحال میں فوج کے صرف ایک تہائی اہلکار ہی مکمل طور پر لیس ہو سکیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سوئٹزرلینڈ دور سے آنے والے خطرات یا ملک پر مکمل حملے کا مؤثر دفاع کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی جنگ اور یورپ کو غیر مستحکم کرنے کی روسی کوششوں کے باوجود سوئس معاشرے میں فوج کے بارے میں رویہ تبدیل نہیں ہوا، جس کی وجہ سوئٹزرلینڈ کی جنگ سے تاریخی دوری، حالیہ عملی تجربے کی کمی اور یہ غلط فہمی ہے کہ غیر جانبداری بذات خود تحفظ فراہم کرتی ہے۔
جنرل سوسلی نے کہا کہ تاریخ اس تصور کی تردید کرتی ہے، کیونکہ ماضی میں کئی غیر جانبدار اور غیر مسلح ممالک جنگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اور غیر جانبداری صرف اسی صورت مؤثر ہوتی ہے جب اس کا دفاع ہتھیاروں کے ذریعے کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے، توپ خانے اور زمینی نظام کو جدید بنا رہا ہے اور پرانے جنگی طیاروں کو امریکی ساختہ ایف-35 اے طیاروں سے تبدیل کیا جا رہا ہے، تاہم اس منصوبے کو لاگت میں اضافے اور سخت وفاقی مالی حالات کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔
سوئس حکومت نے 2032 تک دفاعی بجٹ کو بتدریج جی ڈی پی کے تقریباً ایک فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے جو اس وقت لگ بھگ 0.7 فیصد ہے، لیکن یہ سطح نیٹو ممالک کے مقررہ معیار سے کہیں کم ہے۔ جنرل سوسلی کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو سوئس فوج 2050 تک ہی مکمل طور پر تیار ہو سکے گی، جو موجودہ خطرات کے پیش نظر بہت طویل مدت ہے۔