سعودی کابینہ کا قومی سلامتی کے تحفظ اور یمن کی آئینی حکومت کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ

0

سعودی عرب کی کابینہ نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت اپنی قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی قسم کے خدشے یا خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات سے ہرگز گریز نہیں کرے گی۔

کابینہ نے یمن کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے لیے سعودی عرب کے پختہ عزم کو دہراتے ہوئے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور ان کی حکومت کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

اجلاس میں ان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے نتائج پر افسوس کا اظہار کیا گیا جن پر مملکت نے خصوصی توجہ دی تھی، تاہم اس کے جواب میں غیر ضروری اشتعال انگیزی دیکھنے میں آئی جو یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے اتحاد کی بنیادوں سے متصادم ہے اور ملک میں امن و استحکام کے اہداف کے لیے سودمند نہیں۔ کابینہ کے مطابق یہ رویہ ان یقین دہانیوں سے بھی ہم آہنگ نہیں جو سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔

کابینہ نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے اتحاد کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتحاد نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر حضرموت اور المہرہ گورنریوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے، جن کا مقصد امن و استحکام کا قیام اور تنازع کے دائرے کو پھیلنے سے روکنا تھا۔

کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ دانش مندی غالب آئے گی اور بھائی چارے، حسنِ ہمسائیگی اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے قریبی تعلقات کے اصولوں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ برادر ملک یمن کے مفاد کو بھی مقدم رکھا جائے گا۔ اس تناظر میں متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یمن کی درخواست پر 24 گھنٹوں کے اندر اپنی افواج کے انخلا پر عمل کرے۔

کابینہ نے مزید مطالبہ کیا کہ جنوبی عبوری کونسل اور یمن کے اندر کسی بھی دوسرے فریق کو ہر قسم کی عسکری یا مالی معاونت بند کی جائے، اور متحدہ عرب امارات ایسے اقدامات اختیار کرے جو دوطرفہ تعلقات کے تحفظ کا باعث بنیں، جنہیں مضبوط بنانے میں مملکت گہری دلچسپی رکھتی ہے، تاکہ خطے کے ممالک کی خوشحالی، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں آگے بڑھ سکیں۔

اجلاس کے دوران شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ کو روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے موصول ہونے والے مکتوب کے مندرجات سے بھی آگاہ کیا، جو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات سے متعلق تھا۔

بعد ازاں کابینہ نے حالیہ دنوں میں ریاستی امور کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا، بالخصوص سعودی عرب اور برادر و دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور دوطرفہ و کثیرالجہتی ہم آہنگی کو مختلف سطحوں پر فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا، جن کا مقصد مشترکہ مفادات کا تحفظ اور خطے کے امن و استحکام کو مستحکم کرنا ہے۔

اسی تناظر میں کابینہ نے سعودی۔عمانی رابطہ کونسل کے تیسرے اجلاس کے نتائج کا خیر مقدم کیا اور معیشت، تجارت، صنعت، توانائی، سرمایہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیش رفت کو قابلِ تحسین قرار دیا، ساتھ ہی باہمی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر زور دیا تاکہ دونوں برادر عوام مزید خوشحالی حاصل کر سکیں۔

اجلاس کے بعد سعودی وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کو جاری بیان میں بتایا کہ کابینہ نے علاقائی واقعات اور ان کی تازہ ترین صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ سعودی عرب نے جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی وحدت اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی قابض حکام اور نام نہاد صومالی لینڈ کے درمیان تعلقات کے اعلان کو مسترد کر دیا، کیونکہ یہ اقدام یک طرفہ علیحدگی پسند رجحانات کو تقویت دیتا ہے جو بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ کابینہ نے امدادی اور انسانی میدان میں مملکت کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا، جہاں سعودی عرب اپنے قائدانہ کردار کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا بھر میں ضرورت مندوں اور متاثرین کے لیے صحت، تعلیم، رہائش اور غذائی اشیا کی فراہمی سمیت انسانی اور ترقیاتی امداد فراہم کر رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات اسلامی تعلیمات سے ماخوذ اصولوں اور اقدار کی روشنی میں انجام دیے جا رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.