امریکی اسرائیلی اتفاق رائے: حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے دو ماہ کی حتمی مہلت

0

غزہ – اسرائیلی ذرائع اور امریکی حکام کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حماس تنظیم کے غیر مسلح ہونے کے عمل کے لیے ایک مشترکہ اتفاق رائے طے پایا ہے، جس کے تحت حماس کو اپنے اسلحے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے دو ماہ کی حتمی مہلت دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے میں غیر مسلح ہونے کے عمل کے واضح اور قابلِ عمل معیار طے کیے جائیں گے تاکہ عمل درآمد میں شفافیت اور نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق رفح میں تعمیر نو کا آغاز بھی حماس کے غیر مسلح ہونے سے قبل ہی کر دیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کے ریزورٹ “مار اے لاگو” میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں خبردار کیا کہ اگر حماس تنظیم نے مقررہ مدت میں ہتھیار نہ ڈالے تو اس کے لیے “نتائج نہایت سنگین” ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ تنازعہ کو مزید بڑھانے کا خواہاں نہیں، تاہم غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔

غزہ کی پٹی میں 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی 20 نکاتی روڈ میپ کے تحت قائم کی گئی ہے، جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دو سال سے زائد عرصے سے جاری لڑائی کا خاتمہ اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اس کے دوسرے مرحلے میں حماس کا غیر مسلح ہونا اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل ہے، جس پر عمل درآمد زیادہ پیچیدہ تصور کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، امریکی حکام نے اسرائیلی وزیر اعظم سے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کیا جائے تاکہ کشیدگی کم ہو اور جنگ بندی پر عمل درآمد متاثر نہ ہو۔ امریکہ نے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی مالی مشکلات، اسرائیلی آباد کاری اور بستیوں کی توسیع پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے یورپی ممالک اور دیگر عالمی فریقین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.