کوناکری – گنی کے فوجی بغاوت کے رہنما ماماڈی ڈومبویا ملک کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ منگل کو جاری ہونے والے عارضی نتائج کے مطابق انہوں نے 28 دسمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں 86.72 فیصد ووٹ حاصل کیے، جس کے بعد مغربی افریقہ کے معدنی وسائل سے مالا مال ملک میں سویلین حکمرانی کی بحالی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
سابق اسپیشل فورسز کمانڈر ڈومبویا نے 2021 میں اس وقت کے صدر الفا کونڈے کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا، جو 2010 سے اقتدار میں تھے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق یہ واضح اکثریت انہیں کسی دوسرے مرحلے کے رن آف سے بچا لے گی، جب کہ سپریم کورٹ کے پاس کسی بھی قانونی چیلنج کی صورت میں نتائج کی توثیق کے لیے آٹھ دن ہوں گے۔
ڈومبویا کی کامیابی متوقع سمجھی جا رہی تھی کیونکہ گنی کے بڑے اپوزیشن رہنما، سابق صدر کونڈے اور سیلو ڈیلین ڈیالو اس وقت جلاوطنی میں ہیں، جس کے باعث انہیں آٹھ نسبتاً کمزور امیدواروں کا سامنا تھا۔ بغاوت کے بعد نافذ کیے گئے ابتدائی چارٹر میں جنٹا ارکان پر انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم ستمبر میں ہونے والے ریفرنڈم کے ذریعے منظور کیے گئے نئے آئین میں ان پابندیوں کو ختم کر دیا گیا تھا۔
ملک کے اعلیٰ انتخابی اہلکار جیناباؤ ٹورے کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 80.95 فیصد رہا، تاہم دارالحکومت کوناکری میں کم ووٹنگ دیکھی گئی اور اپوزیشن حلقوں نے ان اعداد و شمار پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
گنی دنیا کے سب سے بڑے باکسائٹ ذخائر کا حامل ملک ہے اور سمندو میں لوہے کے وسیع مگر طویل عرصے سے غیر استعمال شدہ ذخائر موجود ہیں، جن کی کان کنی کا منصوبہ گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر شروع کیا گیا تھا۔ ڈومبویا نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے اور اس سے قومی فائدہ یقینی بنانے کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کی حکومت نے اس سال ایمریٹس گلوبل ایلومینیم کی ذیلی کمپنی گنی ایلومینا کارپوریشن کا لائسنس بھی منسوخ کر کے اس کے اثاثے ایک سرکاری ادارے کو منتقل کر دیے تھے۔
قدرتی وسائل پر ریاستی کنٹرول بڑھانے کی اس پالیسی، جو مالی، برکینا فاسو اور نائجر جیسے ممالک میں بھی دیکھی جا رہی ہے، نے نوجوان آبادی میں ڈومبویا کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ گنی میں آبادی کی اوسط عمر تقریباً 19 سال ہے، اور یہی طبقہ ان کی سیاسی طاقت کا اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔