یمنی حکومت نے جنوبی عبوری کونسل کی ہٹ دھرمی پر سخت اقدامات کا عندیہ دے دیا
صنعاہ — یمنی وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھتی ہے تو حکومت ناپسندیدہ اقدامات پر مجبور ہو سکتی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق الاریانی نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی افواج پہلے ہی مشرقی صوبوں سے نکل چکی ہیں اور باقی صوبوں سے ان کے انخلا کے انتظامات بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ یمنی حکومت نے حالیہ پیش رفت کے دوران متحدہ عرب امارات کے انخلا کے حوالے سے مثبت اقدامات نوٹ کیے ہیں، اور جنوبی عبوری کونسل کی فورسز حضرموت کے صحرائی علاقوں سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت وادی حضرموت کی فوجی نقل و حرکت کی معلومات کو سنجیدگی سے مانیٹر کر رہی ہے۔
معمر الاریانی نے مغربی ساحل پر تعینات ’’عمالقہ بریگیڈز‘‘ کی منتقلی کی خبروں کی نگرانی پر بھی زور دیا اور کہا کہ سعودی قیادت میں عرب اتحاد کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے کسی بھی فوجی نقل و حرکت کا جواب انتہائی ذمہ داری کے ساتھ دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یمنی حکومت نے مشرقی صوبوں میں پیش رفت کے دوران پرامن اور ذمہ دارانہ حکمت عملی اپنائی، اور ریاست و اس کی قانونی حیثیت کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سعودی عرب میں بھی کشیدگی کی راہ پر جانے سے بچنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں، اور خونریزی سے بچنے کے لیے رضاکارانہ حل کو موقع دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے، 90 دن کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے اور اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ فوجی کیمپوں کو ’’درع الوطن فورسز‘‘ کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے "وطن کی ڈھال”۔