شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی پر تحفظات کا اظہار،انہیں ایرانی عوامی حمایت حاصل ہے یا نہیں یقین سے نہیں کہہ سکتا: ٹرمپ

0

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی اپوزیشن شخصیت رضا پہلوی “بہت اچھے لگ رہے ہیں”، تاہم انہوں نے اس بات پر شکوک ظاہر کیے کہ آیا پہلوی ایران کے اندر اقتدار سنبھالنے کے لیے درکار عوامی حمایت حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔ اوول آفس میں رائٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مذہبی حکومت کے گرنے کا امکان موجود ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کے حوالے سے ماضی میں مداخلت کی دھمکیاں دی ہیں، جہاں علما کی حکمرانی کے خلاف بدامنی پر کریک ڈاؤن میں ہزاروں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں، تاہم انہوں نے بدھ کو ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی کھل کر حمایت کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ پہلوی اپنے ہی ملک میں کس حد تک قبولیت حاصل کر سکتے ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ ایرانی عوام ان کی قیادت کو قبول کریں گے یا نہیں۔

ٹرمپ نے اس سے قبل بھی پہلوی سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی ایران کی قیادت کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ امریکہ میں مقیم 65 سالہ رضا پہلوی 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ملک سے باہر ہیں اور حالیہ مظاہروں میں ایک نمایاں آواز بن کر ابھرے ہیں، تاہم ایرانی اپوزیشن مختلف حریف گروپوں اور نظریاتی دھڑوں میں منقسم ہے، جن میں بادشاہت پسند بھی شامل ہیں، اور اسلامی جمہوریہ کے اندر اس کی منظم موجودگی محدود دکھائی دیتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے مظاہروں کے باعث تہران میں حکومت گر جائے، لیکن ان کے مطابق کسی بھی حکومت کے خاتمے کا امکان نظری طور پر موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو “وقت کا ایک دلچسپ دور” قرار دیا۔

انٹرویو کے دوران، جو تقریباً 30 منٹ جاری رہا، ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت کے پہلے سال کی کامیابیوں سے متعلق دستاویزات کا حوالہ بھی دیا، تاہم انہوں نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات کے حوالے سے توقعات کم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں موجود جماعت عام طور پر صدارتی انتخابات کے دو سال بعد نشستیں کھو دیتی ہے، اگرچہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے بہتر کارکردگی کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.