ایران میں کریک ڈاؤن مزید سخت، پولیس چیف کا مظاہرین کو تین دن میں سرنڈر کرنے کا الٹی میٹم

0

تہران – ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا گیا ہے، جہاں قومی پولیس چیف احمد رضا رادان نے احتجاج میں شریک افراد کو تین دن کے اندر سرنڈر کرنے کا الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے سخت کارروائی کی وارننگ دے دی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس چیف نے سرکاری ٹیلی وژن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوان جو “دھوکے میں آ کر” مظاہروں میں شامل ہوئے، انہیں حکومت دشمن نہیں بلکہ گمراہ افراد سمجھا جائے گا، بشرطیکہ وہ مقررہ مدت کے اندر خود کو قانون کے حوالے کر دیں۔

احمد رضا رادان کا کہنا تھا کہ اگر مقررہ مہلت کے دوران سرنڈر کیا گیا تو متعلقہ افراد کے ساتھ نرمی برتی جائے گی، تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ “مہلت ختم ہونے کے بعد قانون پوری سختی سے حرکت میں آئے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔” واضح رہے کہ یہ مظاہرے دسمبر کے آخر میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو گئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مظاہرے ایرانی قیادت کے لیے حالیہ برسوں کا سب سے بڑا داخلی چیلنج تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ احتجاج صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض علاقوں میں حکومت مخالف نعروں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ حساس علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی رِٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال کو ایران میں داخلی استحکام کے لیے ایک نازک مرحلہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں کریک ڈاؤن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.