واشنگٹن – امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے نئی امریکی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اب امریکا کے لیے سب سے بڑا سلامتی خطرہ نہیں رہا اور واشنگٹن کا مقصد نہ تو چین پر غلبہ حاصل کرنا ہے اور نہ ہی اسے گھیرنا۔
پینٹاگون کے مطابق چین کے ساتھ تعلقات کو تصادم کے بجائے طاقت کے توازن کے ذریعے منظم کیا جائے گا تاکہ براہِ راست محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔
نئی دفاعی حکمتِ عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل میں امریکا اپنے اتحادی ممالک کو محدود نوعیت کی عسکری و دفاعی حمایت فراہم کرے گا، جبکہ مختلف جغرافیائی خطوں تک امریکی فوجی اور تجارتی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پینٹاگون نے بتایا کہ امریکی سرحدوں کا تحفظ، غیر قانونی ہجرت اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کو قومی سلامتی کی اولین ترجیحات میں شامل کر لیا گیا ہے۔
دفاعی دستاویز میں اعتراف کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک امریکی دفاعی پالیسی امریکی عوام کے بنیادی مفادات کو نظرانداز کرتی رہی، تاہم اب امریکا اپنے قومی مفادات کو دنیا کے دیگر ممالک کے مفادات کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہتا۔
پینٹاگون کے مطابق اتحادی ممالک کو درپیش سلامتی خطرات سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری اب خود انہی ممالک پر عائد ہوگی۔
نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی میں روس کو بدستور نیٹو کے مشرقی رکن ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل کو امریکا کا مثالی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کو مزید مضبوط اور طاقتور بنایا جائے گا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق نئی امریکی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی عالمی طاقتوں کے توازن، اتحادی نظام اور مستقبل کی امریکی خارجہ و دفاعی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی عکاس ہے۔
