مشرقی لندن میں مسلم مخالف مارچ، پولیس کی یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی پردوبارہ پابندی

Police ban UK Independent Party again after anti-Muslim march in east London

لندن – میٹرو پولیٹن پولیس نے مسلم مخالف خیالات رکھنے والی جماعت یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی (یو کے آئی پی) کی جانب سے مشرقی لندن میں مجوزہ احتجاجی مارچ پر دوسری مرتبہ پابندی عائد کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق پبلک آرڈر ایکٹ کے تحت یو کے آئی پی کو 31 جنوری کو وائٹ چیپل کے علاقے میں مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے مسلم اکثریتی علاقے میں کشیدگی اور ممکنہ جھڑپوں کا خدشہ ہے۔

میٹرو پولیٹن پولیس نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی نے پابندی کے باوجود مارچ کرنے کی کوشش کی تو گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ پولیس نے پارٹی منتظمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج کے لیے کوئی متبادل مقام منتخب کریں۔

پولیس کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ یو کے آئی پی کو مشرقی لندن میں مارچ سے روکا گیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر میں بھی پارٹی نے ٹاور ہیملٹس کے علاقے میں مارچ کی کوشش کی تھی تاہم اجازت نہ ملنے پر مغربی لندن میں تقریباً 75 مظاہرین نے احتجاج کیا تھا۔

یہ احتجاجی سرگرمیاں ملک بھر میں جاری ’’ماس ڈیپورٹیشن ٹور‘‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، جن کے دوران منتظمین نے وائٹ چیپل کو اسلام پسندوں سے ’’واپس حاصل کرنے‘‘ جیسے متنازع نعرے بھی دیے تھے۔

میٹرو پولیٹن پولیس کے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر جیمز ہارمن نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران یو کے آئی پی کے ساتھ رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم پارٹی کی جانب سے تعاون محدود رہا۔

انہوں نے کہا "ہم نے منتظمین کو واضح طور پر مشورہ دیا ہے کہ ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لیے کسی دوسری جگہ مارچ کریں۔ وائٹ چیپل میں احتجاج اشتعال انگیزی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے پولیس اس کی اجازت نہیں دے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔”

جیمز ہارمن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پولیس کے فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد شامل نہیں۔”ہم احتجاج سے نہیں روک رہے، بلکہ صرف اس مقام پر اجازت نہیں دے رہے جہاں امنِ عامہ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے