حماس کی 10 ہزار پولیس اہلکاروں کو نئی غزہ انتظامیہ میں شامل کرانے کی کوشش، اسرائیل کی مخالفت کا امکان
غزہ / واشنگٹن – اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق حماس غزہ میں اپنے زیرِ انتظام تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکاروں کو امریکی حمایت یافتہ فلسطینی عبوری انتظامیہ میں شامل کرانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس مطالبے کی سخت مخالفت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس اس بات پر داخلی مشاورت کر رہی ہے کہ آیا وہ اپنے ہتھیار ترک کرے یا نہیں۔
اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد حماس نے غزہ کے تقریباً نصف حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج کے مزید انخلا کو حماس کے اسلحہ ترک کرنے سے مشروط کیا گیا ہے۔
جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے تیار کیے گئے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی حکمرانی ’’غزہ انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی‘‘ (NCAG) کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارہ ہے جس کا مقصد امریکی نگرانی میں غزہ کا نظم و نسق سنبھالنا اور حماس کو انتظامی ڈھانچے سے باہر رکھنا ہے۔
رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے ایک خط کے مطابق، حماس کے زیر انتظام غزہ حکومت نے اتوار کے روز اپنے 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ نئی عبوری انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ تاہم خط میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ حماس انہیں نئی حکومت میں شامل کرانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
ذرائع کے مطابق اس فہرست میں تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جو حماس کے زیرِ انتظام فورس کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کئی اہلکار اس وقت بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کر رہے ہیں، جہاں حماس نے دوبارہ اپنی عملداری مضبوط کر لی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اسرائیل اس مجوزہ انتظامیہ میں حماس سے وابستہ سول یا سیکیورٹی اہلکاروں کی شمولیت پر رضامند ہوگا یا نہیں، کیونکہ اسرائیلی حکومت پہلے ہی غزہ کے مستقبل میں حماس کے کسی بھی کردار کو سختی سے مسترد کر چکی ہے۔
اس معاملے پر وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔