اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا دوٹوک مؤقف: مذاکرات کے لیے بھی تیار، دفاع کے لیے بھی مکمل آمادگی

اقوام متحدہ — اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے واضح کیا ہے کہ تہران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی قسم کے دباؤ یا جارحیت کی صورت میں ایران اپنے دفاع کا بھرپور اور غیر معمولی جواب دے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ایرانی مشن کا کہنا تھا کہ “ایران سفارت کاری کا حامی ہے اور احترام پر مبنی مذاکرات کے لیے آمادہ ہے، لیکن اگر ایران پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ اپنے دفاع کا ایسا ردعمل دے گا جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔” فوجی کارروائی کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ ایرانی مشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو امریکا، اسرائیل اور ان کے حمایتی ممالک ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کی سخت دھمکیاں یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے “بدترین حملے” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا کہ: امریکا نے ایران کی جانب طیارہ بردار بحری بیڑا ابراہم لنکن روانہ کر دیا ہے یہ بیڑا مکمل عسکری طاقت کے ساتھ تعینات کیا جا رہا ہے ضرورت پڑنے پر فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے ان کا کہنا تھا کہ “ایران کو منصفانہ اور مساوی معاہدے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا، کوئی جوہری ہتھیار نہیں — ایسا معاہدہ جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔” ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا حوالہ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ماضی کی فوجی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ“میں نے ایران کو پہلے بھی خبردار کیا تھا، معاہدہ نہیں کیا گیا اور پھر آپریشن مڈنائٹ ہیمر ہوا، جس میں ایران کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔” بڑھتی کشیدگی، خطے کے لیے خطرہ سیاسی مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی زبانی جنگ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں کسی بھی ممکنہ تصادم کے خطے سے باہر پھیلنے کے خدشے کا اظہار کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ — اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے واضح کیا ہے کہ تہران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی قسم کے دباؤ یا جارحیت کی صورت میں ایران اپنے دفاع کا بھرپور اور غیر معمولی جواب دے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ایرانی مشن کا کہنا تھا کہ “ایران سفارت کاری کا حامی ہے اور احترام پر مبنی مذاکرات کے لیے آمادہ ہے، لیکن اگر ایران پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ اپنے دفاع کا ایسا ردعمل دے گا جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔”

فوجی کارروائی کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ

ایرانی مشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو امریکا، اسرائیل اور ان کے حمایتی ممالک ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے