لاہور — اردو زبان میں ناول، افسانہ، کالم اور تہذیبی شعور کو نئی معنویت دینے والے عظیم ادیب انتظار حسین کی آج دسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ وہ ادیب جن کی تحریروں میں ہجرت کا کرب، بکھرتی تہذیب کا نوحہ اور ماضی کی بازگشت گہرے طور پر محسوس کی جاتی ہے۔
انتظار حسین اردو افسانے کا وہ معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے روایت اور جدیدیت کے امتزاج سے ایک ایسا ادبی جہان تخلیق کیا جو آج بھی قاری کو فکری سطح پر جھنجھوڑ دیتا ہے۔ وہ 21 دسمبر 1925ء کو متحدہ ہندوستان کے ضلع میرٹھ کے علاقے دیبائی میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ہجرت کا دکھ اپنی ذات میں سمویا، جو بعد ازاں ان کی تحریروں کا مرکزی حوالہ بن گیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انتظار حسین نے صحافت کو بطور پیشہ اختیار کیا اور قلم کے ذریعے اردو ادب کو نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے کم و بیش 130 سے زائد افسانے، کہانیاں، ناول، ڈرامے، تراجم اور لاتعداد کالم تحریر کیے، جو اردو ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔
ان کی شہرۂ آفاق تصانیف میں ’’بستی‘‘، ’’آگے سمندر ہے‘‘، ’’شہرِ افسوس‘‘، ’’خالی پنجرہ‘‘ اور ’’گلی کوچے‘‘ شامل ہیں، جن میں فرد کی تنہائی، اجتماعی زوال اور تہذیبی یادداشت کو نہایت علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
انتظار حسین کو جدید اردو افسانہ نگاری کا بانی قرار دینا بے جا نہ ہوگا۔ وہ فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو، ابنِ انشا، احمد ندیم قاسمی اور احمد فراز جیسے عظیم ادیبوں کے ہم عصر تھے، تاہم ان کا اسلوب، علامتی زبان اور فکری گہرائی انہیں ایک منفرد اور بلند مقام عطا کرتی ہے۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا، جبکہ لاہور لٹریری فیسٹیول کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ 2014ء میں فرانس کی حکومت نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے بھی سرفراز کیا۔
2 فروری 2016ء کو انتظار حسین مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے اردو ادب کا ایک روشن باب ضرور بند ہوا، مگر ان کے الفاظ، فکر اور تحریریں آج بھی زندہ ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔
