لیجنڈ غزل گائیکہ ملکہ پکھراج کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے، سدا بہار گیت آج بھی زندہ

0

صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی کی حامل اور برصغیر کی عظیم غزل گائیکہ ملکہ پکھراج کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے 22 برس گزر چکے ہیں، تاہم ان کی آواز کی مٹھاس اور سدا بہار گیتوں کی چاشنی آج بھی شائقینِ موسیقی کے دلوں میں زندہ ہے۔

ملکہ پکھراج 1914ء میں جموں و کشمیر میں پیدا ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان ہجرت کی اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کی شادی شبیر حسین شاہ سے ہوئی، جو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری افسر اور موسیقی کے دلدادہ تھے۔ شبیر حسین شاہ نے پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور اردو ڈرامے ’’جھوک سیال‘‘ کی تخلیق بھی کی۔ ملکہ پکھراج کی فنی کامیابی میں ان کے شوہر کی بھرپور حوصلہ افزائی اور تعاون کا نمایاں کردار رہا۔ ان کے دو بیٹیاں اور چار بیٹے تھے۔

ملکہ پکھراج نے غزل کے ساتھ ساتھ ٹھمری، بھجن اور موسیقی کی دیگر اصناف میں بھی اپنی بے مثال صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے حفیظ جالندھری کی متعدد غزلیں اور نظمیں گائیں جو بے حد مقبول ہوئیں، تاہم ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ ان کی پہچان بن گئی۔ ریڈیو پاکستان کے معروف موسیقی پروڈیوسر کالے خان نے زیادہ تر ان کے لیے دھنیں ترتیب دیں۔ اس کے علاوہ عدمؔ کی غزل ’’وہ باتیں تیری، وہ فسانے تیرے‘‘ بھی ان کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔

ملکہ پکھراج کی چھوٹی بیٹی طاہرہ سید بھی اپنی والدہ کی طرح ڈوگری اور پہاڑی اندازِ گائیکی میں مہارت رکھتی ہیں اور گائیکی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے صوتی خزانے میں طاہرہ سید کے گائے ہوئے گیت محفوظ ہیں، جو وقتاً فوقتاً نشر ہوتے رہتے ہیں۔

ملکہ پکھراج کا اصل نام حمیدہ تھا۔ انہوں نے صرف تین سال کی عمر میں استاد اللہ بخش کی شاگردی اختیار کی اور کم عمری ہی میں فنِ گائیکی کے رموز سیکھ لیے۔ پانچ برس کی عمر میں دہلی گئیں جہاں استاد مومن خان، استاد مولا بخش تلونڈی اور استاد عاشق علی جیسے نامور موسیقاروں سے تربیت حاصل کی۔ ٹھمری، غزل، بھجن اور راگ پہاڑی میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ ان کے گیت برصغیر پاک و ہند میں یکساں طور پر پسند کیے گئے۔

اگرچہ انہوں نے کم گایا، مگر جو کچھ بھی گایا اسے امر کر دیا۔ اردو اور فارسی زبان پر عبور اور ادب سے گہری وابستگی ان کی گائیکی کا نمایاں وصف تھی۔ ان کے مقبول گیتوں میں ’’لو پھر بسنت آئی‘‘، ’’پیا باج پیالا پیا جائے نا‘‘، ’’ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں‘‘ اور غالبؔ و فیضؔ کی متعدد غزلیں شامل ہیں۔ علامہ اقبال کی نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کو جس انداز میں انہوں نے پیش کیا، اس نے نظم کے فہم کو ایک نیا زاویہ دیا۔ اسی طرح ان کی نظم ’’ہائے میری انگوٹھیاں‘‘ اس قدر مشہور ہوئی کہ اس کا مصرعہ عام بول چال میں مثال کے طور پر استعمال ہونے لگا۔

ملکہ پکھراج 4 فروری 2004ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں، مگر ان کی آواز اور فن کا جادو آج بھی قائم ہے۔ انہوں نے اپنی خودنوشت ’’بے زبانی زباں نہ ہو جائے‘‘ کے عنوان سے تحریر کی، جو اردو سمیت متعدد زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ شائقینِ موسیقی کے نزدیک ملکہ پکھراج کا نام آج بھی کلاسیکی اور غزلی موسیقی کی پہچان ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.