ٹرمپ کے مالیاتی پیکج پر دستخط، جزوی امریکی سرکاری شٹ ڈاؤن ختم

0

واشنگٹن  — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مالیاتی پیکج پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد ہفتے سے شروع ہونے والا جزوی سرکاری شٹ ڈاؤن باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ بل گزشتہ روز ایوانِ نمائندگان سے معمولی اکثریت سے منظور ہوا تھا، جبکہ اس سے قبل جمعہ کو امریکی سینیٹ نے اس کی منظوری دی تھی۔

منظور شدہ مالیاتی پیکج کے تحت مالی سال کے اختتام 30 ستمبر تک متعدد امریکی وفاقی اداروں کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ فنڈز حاصل کرنے والے اداروں میں محکمہ دفاع، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت و انسانی خدمات، محکمہ محنت، محکمہ ٹرانسپورٹیشن اور محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔

تاہم محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کے لیے فنڈنگ کو اس جامع پیکج سے الگ رکھا گیا ہے۔ ڈی ایچ ایس کو موجودہ سطح پر صرف دو ہفتوں کے لیے عارضی فنڈنگ فراہم کی جائے گی، تاکہ امیگریشن قوانین کے نفاذ سے متعلق معاملات پر ڈیموکریٹس، ری پبلکنز اور وائٹ ہاؤس کے درمیان مزید مذاکرات ہو سکیں۔

منیاپولس میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے حالیہ دو ہلاکت خیز فائرنگ کے واقعات کے بعد ڈیموکریٹ اراکین نے امیگریشن اداروں کے کردار اور اختیارات میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر کا کہنا ہے کہ جب تک امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کو قانون سازی کے ذریعے مؤثر کنٹرول اور اصلاحات کے دائرے میں نہیں لایا جاتا، محکمہ داخلی سلامتی کی فنڈنگ کا بل سینیٹ سے منظور نہیں ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے باعث امریکی وفاقی حکومت کو بارہا شٹ ڈاؤن کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یکم اکتوبر 2025 کو عارضی فنڈنگ کی منظوری نہ ملنے کے باعث وفاقی ادارے بند ہو گئے تھے، جو 12 نومبر 2025 تک جاری رہے۔

ایئرلائنز فار امریکا کے مطابق 43 روزہ شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ثابت ہوا، جس کے دوران ایئرپورٹ عملے کو مالی معاونت نہ ملنے کے باعث تقریباً 52 لاکھ مسافر پروازوں میں تاخیر یا منسوخی سے متاثر ہوئے۔

بائی پارٹیزن پالیسی سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 6 لاکھ 70 ہزار وفاقی ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجا گیا، جبکہ تقریباً 7 لاکھ 30 ہزار ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کرتے رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی تقسیم برقرار رہنے کی صورت میں آئندہ بجٹ منظوری کے مرحلے پر ایک اور سرکاری شٹ ڈاؤن کا خدشہ موجود ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.