ابوظہبی میں روس، یوکرین اور امریکا کے سہ فریقی مذاکرات تعمیری قرار، قیدیوں کے تبادلے اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

0

استنبول — متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے ابوظہبی میں روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کو نتیجہ خیز اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز مثبت پیغامات سے ہوا، جو جنگوں کے باعث پیدا ہونے والے انسانی مصائب کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں فریقین کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابوظہبی میں ہونے والی بات چیت کے دونوں ادوار کے دوران تعمیری مکالمہ ہوا، جس میں مشترکہ نکات کی نشاندہی کی گئی جو آئندہ پیش رفت کے لیے بنیاد بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات متعلقہ فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور تنازعے کے پرامن حل کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور 23 اور 24 جنوری جبکہ دوسرا دور 4 اور 5 فروری کو ابوظہبی میں منعقد ہوا۔

اس سے قبل امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے بھی بات چیت کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کا مقصد پائیدار امن کے لیے حالات پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ فریقین کے درمیان معاہدے کے تحت روس اور یوکرین 157،157 جنگی قیدی رہا کریں گے، جو گزشتہ پانچ ماہ میں پہلا قیدی تبادلہ ہے۔

امریکی ایلچی کے مطابق دو روزہ ملاقات کے دوران وفود نے جنگ بندی پر عمل درآمد، فوجی سرگرمیوں کو روکنے کے ممکنہ طریقہ کار اور دیگر حل طلب امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ امریکا اور روس نے فوجی مذاکرات پر بھی اتفاق کیا ہے، جن کی قیادت امریکی یورپی کمان کے سربراہ جنرل الیکسس گرینکیوچ کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفود نے اپنے اپنے دارالحکومتوں کو واپس جا کر مشاورت کرنے اور آنے والے ہفتوں میں سہ فریقی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت مستقبل قریب میں مذاکراتی ٹیموں کا نیا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.