امریکی حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈے نشانہ بنائیں گے، ایران کی سخت وارننگ

0

قاہرہ — ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایسے کسی بھی ردِعمل کو امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک پر حملہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

قطری ٹی وی الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری رکھنے کا عزم موجود ہے، جنہیں دونوں فریقین نے عمان میں ہونے والی حالیہ بات چیت کے بعد مثبت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی، تاہم دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جلد آگے بڑھنی چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے خطے میں امریکی بحری موجودگی میں اضافے کے بعد ایران کو دھمکی دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی ترک کرے، بیلسٹک میزائل پروگرام روکے اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس حوالے سے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے اور کسی بھی صورت میزائل پروگرام یا علاقائی پالیسیوں کو مذاکرات میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول میں بامعنی مذاکرات ممکن نہیں ہوتے۔

عباس عراقچی نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس جون میں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں قائم ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا تھا اور اگر دوبارہ ایسا حملہ ہوا تو ردِعمل بھی اسی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی سرزمین پر حملہ ممکن نہیں، تاہم خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے دفاعی ردِعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔

ایران ایک بار پھر اس بات پر زور دے رہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی اس کا قانونی حق ہے اور اس حق سے دستبرداری اسے اسرائیلی حملوں کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.