پاک بھارت میچ بائیکاٹ پر آئی سی سی اور پی سی بی مذاکرات ختم، فیصلہ حکومت پاکستان کے سپرد
پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے وفد اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کے درمیان اہم ملاقات اختتام پذیر ہو گئی۔ پی سی بی نے آئی سی سی وفد کو اپنی شرائط سے باقاعدہ طور پر آگاہ کرتے ہوئے حتمی فیصلہ حکومت پاکستان کے سپرد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے مذاکرات کے دوران پاکستان سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست کی، تاہم پی سی بی نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں حتمی اختیار حکومت پاکستان کے پاس ہے۔ ملاقات کے بعد آئی سی سی وفد اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام ہوٹل روانہ ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی آئندہ ایک سے دو روز میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں پاک بھارت میچ کے حوالے سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈنر کے بعد رات گئے مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے حوالے سے پی سی بی بعد ازاں باضابطہ اعلامیہ جاری کرے گا۔ تینوں فریقین نے بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کی بھرپور کوشش کی، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا گیا تو مذاکرات کے کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
آئی سی سی وفد نے پی سی بی ہیڈکوارٹر میں چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی، جس میں پاک بھارت میچ سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ امین الاسلام، چیئرمین کے خصوصی مشیر عامر، چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر سید اور چیف آپریٹنگ آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر بھی شریک تھے۔
پی سی بی ہیڈکوارٹر میں یہ مذاکرات تین گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات رات نو بجے تک مکمل ہونا تھے تاہم وقت میں توسیع کر دی گئی۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کے حوالے سے آئی سی سی وفد کا یہ دورہ پاکستان کرکٹ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی اور بڑے ایونٹس کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ عمران خواجہ کی قیادت میں آئی سی سی اور پی سی بی کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی کرکٹ پالیسی سازی میں ان کے کردار کو بھی نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔