اسرائیلی حملوں نے غزہ میں جنگ بندی کو بے معنی بنا دیا، حماس
غزہ / واشنگٹن – فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث غزہ میں جنگ بندی عملی طور پر بے معنی ہو چکی ہے، جبکہ ثالثوں کی امن کوششوں کو اسرائیل کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
حماس کے ترجمان کے مطابق غزہ میں اسرائیلی افواج کی ’’وحشیانہ اور بلا تعطل کارروائیاں‘‘ جاری ہیں، جو جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں امریکا اور دیگر ثالث ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
ادھر امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس کے لیے متعلقہ ارکان کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ اس میٹنگ کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جن کے ساتھ بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی شریک ہوں گے۔ صدر ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین ہیں۔
تاہم برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی اہم یورپی ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کے کردار کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو بتایا جا رہا ہے۔
میٹنگ کا باقاعدہ ایجنڈا تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی غزہ ڈیل کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔