اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی مغربی کنارے میں کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے نئی قانون سازی منظور، فلسطینی قیادت کا سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ
مقبوضہ بیت المقدس – اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، جس پر فلسطینی حکام، اردن اور علاقائی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فلسطینی قیادت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکا سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
الجزیرہ نے اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ منظور شدہ قوانین کے تحت مغربی کنارے میں اسرائیلی انتظامی و قانونی اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا، جس سے اسرائیلی آبادکاروں کے لیے زمین کی خریداری مزید آسان ہو جائے گی اور فلسطینیوں پر قوانین کے نفاذ کے لیے اسرائیلی حکام کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔
فلسطینی ایوانِ صدر نے ایک بیان میں ان اقدامات کو “انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آبادیاتی توسیع کو قانونی حیثیت دینے اور فلسطینی اراضی کی ضبطی کی کھلی کوشش ہے۔ صدر محمود عباس کے دفتر نے امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان یکطرفہ فیصلوں کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
اردن کی وزارتِ خارجہ نے بھی اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کا مقصد غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری اور بستیوں کو مسلط کرنا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اسرائیلی خبر رساں اداروں Ynet اور Haaretz کے مطابق نئی قانون سازی میں وہ پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں جو نجی یہودی افراد کو مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین خریدنے سے روکتی تھیں۔ اس کے علاوہ بعض مذہبی مقامات کے انتظام کی ذمہ داری اسرائیلی حکام کو دینے اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی نگرانی اور نفاذ کو وسعت دینے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں فلسطینی غزہ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے ساتھ مستقبل کی آزاد ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں۔ علاقے کا بڑا حصہ براہِ راست اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے، جبکہ بعض حصوں میں فلسطینی اتھارٹی کی محدود خودمختاری موجود ہے۔
ادھر اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے رہنما اور وزیرِ خزانہ بیزالیل سموٹرچ کے دفتر نے بیان میں کہا کہ “ہم فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنے کے اقدامات جاری رکھیں گے۔”
فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے میں الحاق کو بڑھانے اور زمینی حقائق تبدیل کرنے سے متعلق اسرائیلی اقدامات تمام دستخط شدہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو سنگین کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ یکطرفہ فیصلے دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کرنے اور پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں۔