بھارتی ریاست منی پور میں دوبارہ کشیدگی، جھڑپوں اور احتجاج کے دوران 2 افراد ہلاک، 10 زخمی
منی پور – بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر کشیدگی اور افراتفری میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں تازہ جھڑپوں اور احتجاجی مظاہروں نے ریاست کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 5 اور 6 فروری کو ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، جو بعد ازاں تشدد اور جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔ کوکی قبائل سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے اکثریتی ضلع امپھال میں چورا چند پور روڈ کو بند کر کے احتجاج کیا، جس کے باعث حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، اس دوران سیدھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ کم از کم 10 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہندو قوم پرستی کے بڑھتے رجحان اور ریاستی بھرتیوں میں ترجیحی پالیسیوں نے نسلی اور قبائلی تناؤ کو مزید ہوا دی ہے، جس کے باعث منی پور میں حالات بار بار خراب ہو رہے ہیں۔
منی پور اب شمال مشرقی بھارت کی ان ریاستوں میں شامل ہوتا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے سیاسی نظراندازی، ترقیاتی محرومی اور نسلی تنازعات کا شکار رہی ہیں، جن میں ناگالینڈ اور میزورام بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق کے مطابق ریاست میں امن و امان کی بحالی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔